Profile cover photo
Profile photo
mustafa Khawar
270 followers
270 followers
About
Posts

Post has attachment

Post has attachment
آخر کار ،وہ اپنے انجام کو پہنچا ۔
آسا ہارا شوکو ، کا اصلی نام تھا ماتسوموتو چینزو ،۔
جاپان میں اس نے ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھی تھی ، اس مذہب کا نام تھا “ اوم “ ۔
آساہارا کو جمعے کے روز آکر کار پھانسی پر ٹانگ دیا گیا ، جاپان ، جہاں سزائے موت کا قانون ہے اور سزائے موت دینے کا ان کا ایک طریقہ کار ہے ،۔
کہ جس میں سزائے موت پانے والے کے لواحقین کو آخر تک اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ مجرم کس کس دن موت سے ہمکنار کیا جائے گا ،۔
بس ایک دن رابطہ کرنے والے رابطہ کرتے ہیں کہ اپنے بندے کی لاش آ کر لے جاؤ !!،۔
بس اللہ اللہ تے خیر صلا!،۔
بس اسی طرح آسا ہار کو بھی ٹھکانے لگا دیا گیا ہے ،۔
آساہار ، جو کہ جوانی میں انڈیا گیا تھا جہاں اس نے یوگا کی تعلیم لی تھی ہندو یوگیوں کی زندگی کو قریب سے دیکھا تھا ، پرانوں کی روایات اور علوم کو سننے کا موقع ملا تھا ،۔
یہیں اس کو ایک نیا مذہب بنا کر وشنو کا اوتار بننے کا خیال آیا ہو گا،۔
انیس سو چوراسی میں اساہارا نے ایک یوگا سکول شروع کیا تھا اس کے فوراً ہی بعد اپنے نئے مذہب کا پرچار بھی شروع کر دیا،۔
دس سال کے عرصے میں اس کے ماننے والوں کی تعداد لاکھوں میں تھی ،۔
یوگا سکولوں کے ساتھ ساتھ سائینسی تحقیات کے لئے لبارٹریاں بھی بنا چکا تھا ،۔
انیس سو نوے کے الیکشن میں اسارا نے ہاؤس آف ریپریزنٹیو کے الیکشن میں کئی کینڈیٹ کھڑے کئے تھا تاکہ ریاستی طاقت حاصل کر سکے ،۔
آسار کے کھڑے کئے ہوئے سارے امیدوار ناکام ہو گئے تھے ،۔
اس کے بعد آسا ہار نے لوگون کو قتل کر کے طاقت حاصل کرنے کے لئے اپنی لیبارٹی کی تیار کی گئی گیس سے لوگون کو قتل کرنا شروع کردیا تھا ،۔
جون انیس سو چورانوے میں ناگانو پرفیکچر کے شہر ماتسموتو میں اگیس چھوڑ کر آٹھ افراد کی جان لے لی تھی اور اس واقعے میں کوئی ایک سو افراد گیس سے شدید متاثر ہو کر سخت مجروح ہوئے تھے ،۔
انیس سو پچانوے میں ٹوکیو میں ٹرین میں گیس چھوڑ کر دی تھی ، جس میں ترہ افراد موت کا شکار ہوئے اور ڈیڑھ ہزار سے زیادہ لوگ مفلوج ہو کر رہ گئے تھے ،۔
اساہار انیس سو چھیانوے میں گرفتار ہوا تھا ، گرفتاری سے لے کر سزائے موت پر عملدامد تک عرصہ بائیس لگا ہے ،۔
آخر کار ۔
اساہار ، اوم شینریکیو کا بانی موت سے ہمکنار کیا گیا ،۔
بائیس سال کا عرصہ سخت مصائب اور حکومتی نگرانی
کے باوجود اج بھی اس کے بنائے ہوئے مذہب کے ماننے والون کی تعداد دو ہزار افراد سے زیادہ ہے ،۔
ان میں سے سولہ سو پچاس لوگ جاپان میں ہیں اور چار سو بیس لوگ رشیا میں مقیم ہیں ،۔اور اس مذہب کے اثاثوں کی مالیت کوئی نوے لاکھ امریکی ڈالر کے برابر ہے ،۔
سن 1989ء میں ایک وکیل سکاموتو تسوتسمی اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ قتل ہو گیا تھا ،۔
یہ وکیل آساہار سے متاثر جوان بچوں کے والدین کی مدد کر رہا تھا تاکہ بچوں کا آساہار کے اثر سے نکالا جا سکے ،۔
انیس سو اناسی میں ہونے والے اس قتل کا معمعہ آج تک حل نہیں ہو سکا کہ اس کو کس نے قتل کیا تھا ،۔
خیال کیا جاتا ہے کہ یہ قتل بھی آسا ہار کے کہنے ہر کیا گیا ہو گا ،۔
Add a comment...

Post has attachment

پرانی پہیلی نما کہانی ہے کہ
کسی نے دوسرے سے پوچھا کہ
ایک چیونٹیوں کی لائین جا رہی ہے
سب سے اگے والی چیونٹی کہتی ہے ، میرے پیچھے دو چیونٹیں ہیں ۔
سب سے پیچھے والی کہتی ہے
میرے آگے دو چیونٹیاں ہیں ۔
اور پھر درمیان والی کہتی ہے
میرے آگے بھی دو چیونٹیاں ہیں اور میرے پیچھے بھی دو چیونٹیاں ہیں
بتاؤ تو بھلا قطار میں کل کتنی چیونٹیاں ہیں ؟
جواب ، اس پہیلی کا یہ بتایا جاتا ہے
کہ

قطار میں چیونٹیاں تین ہی ہیں بس درمیان والی چیونٹی جھوٹ بولتی ہے ،۔

دوسری کہانی

چند پہلے کہیں کسی محفل میں گاما اپنے علم کا رعب ڈال رہا تھا
کہ
یہ جو گدھے ہوتے ہیں ناں جی یہ بھی پورا محکمہ موسمیات ہوتے ہیں ، جب گدھا کھڑا ہو تو بارش کا امکان ہوتا ہے اور جب گدھا بیٹھا ہو تو موسم صاف ہوتا ہے ،۔
اپنا اچھو ڈنگر ، دیوار کے اوپر سے گامے کی حویلی میں جھانک کر دیکھتا ہے
اور گامے سے پوچھتا ہے ۔
یار گامیا !۔
تمہارے آدھے گدھے بیٹھے ہیں اور آدھے کھڑے ہیں ، اس بات سے موسم کا کون سا آرتھ نکلتا ہے ؟
گاما بتاتا ہے
کہ
اس سے موسم کا کوئی آرتھ نہیں نکلتا بس یہ سمجھ لو کہ آدھے گدھوں کو مغالطہ لگا ہوا ہے ،۔

حاصل مطالعہ
الیکشن آنے والے ہیں ، مغالطے اور مبالغے اپنے عروج پر ہیں ،۔
Add a comment...

Post has attachment

پرانی کہانیوں میں ، ان کہانیوں میں جو اپنے بچپن میں دادی سے سنی تھیں ۔
وہ کہانیاں جو ٹیلی وژن کے آنے سے پہلے سردیوں کی لمبی راتوں میں بستر میں گھس کر سنی سنائی جاتی تھیں ،۔
ان کہانیوں میں ایک دیو ہوتا تھا جو شہزادے کی شہزادی کو اغوا کر کے لے جاتا تھا ،۔
اس دیو کہ جان ، دریا پار کے جنگل میں کسی بہت پرانے درخت پر ٹنگے ہوئے پنجرے میں قید ایک طوطے میں ہوتی تھی ،۔
دیو سے جنگ جیتنے کے سارے حربے ناکام جاتے تھے ، تو ایک بزرگ شہزادے کو بتاتا تھا کہ ، دیو جس نے تمہاری شہزادی کو اغوا کر رکھا ہے اس کی جان اس طوطے میں ہے ،۔
تب شہزادہ اس طوطے کی تلاش میں جاتا تھا ، اور طوطے کے قتل سے پہلے دیو کو پتہ چل جاتا تھا اور دیو بھی وہیں پہنچ جاتا تھا اور پھر ایک کٹھن معرکہ ہوتا تھا ، لیکن شہزادہ کسی نہ کسی طرح طوطے کی گردن مروڑ ہی دیتا ، طوطے کی گردن مڑتے ہی دیو جان سے جاتا تھا
اور سب ہنسی خوشی رہنے لگتےتھے ہیپی اینڈ !!،۔
اس کہانی کے تناظر میں پاکستان کے حالات کو دیکھیں تو ؟
شہزادے (عام عوام) کی شہزادی (دولت ) کو جس دیو (ارباب اقتدار) نے اغوا کی ہوئی ہے ،۔
اس دیو (مقتدّر طاقتوں) کی جان (غیر ملکی نیشلنٹی ) میں ہے ،۔
اب بس اگر کوئی بزرگ شہزادے کو بتا دے کہ ان سب کی جان غیر ملکی نیشلٹی میں ہے تو بات بن سکتی ہے ،۔
لیکن اس قوم کی بد قسمتی کہ اس کے سارے بابوں کی بھی جان ایک ایک طوطے میں ہے ،۔
اور وہ طوطا بھی فارن کا ویزہ یا نشنیلٹی ہے ،۔
اس قوم کا کا جوبھی شہزادہ ،شہزادی کے باریاب کروانے کے لئے ملتا ہے
کود اس کی بھی جان کسی طوطے میں ہوتی ہے یا
کہ
وہ شہزادہ بھی اپنی جان کو کسی طوطے میں تحفظ دینے کے لئے طوطے کی تلاش میں ہوتا ہے ،۔
Add a comment...

Post has attachment
Add a comment...

Post has attachment
Add a comment...

Post has attachment
Add a comment...

Post has attachment
Add a comment...

Post has attachment
Add a comment...

Post has attachment
Add a comment...
Wait while more posts are being loaded