Profile cover photo
Profile photo
Alam Islahi
242 followers
242 followers
About
Posts

Post has attachment
Add a comment...

Post has attachment

ہمیں بچاؤ!
بیسویں صدی کے عظیم ناول نگار فرینز کافکا اور فرانسیسی زبان کے شہرہ آفاق فکشن نگار گائے دے موپزاں میرے محبوب اہل قلم میں سے ہیں۔ ہر دو بزرگوں سے میں نے سیکھا کہ علامتی اسلوب میں سنجیدہ مباحث کو یہ کس سلیقے سے ڈھالتے رہے۔
میرا اصل میدان صحافت ہے لیکن طبیعت کی لاابالی کہئے یا بچپن سے پڑی ادب کی لت کہہ لیجئے کہ فکشن لکھنے کی بھی کوشش کر لیتا ہوں۔ گذشتہ کافی عرصہ سے ہمارے ارد گرد جو حالات ہیں ان کو ذہن میں رکھ کر میری درج ذیل تحریر ملاحظہ ہو۔ میں واضح کر دینا چاہوں گا کہ اس کا تعلق کسی امیر شریعت یا دین بچاو ریلی سے نہیں ہے۔ مماثلتیں اتفاق کے زمرے میں آئیں گی۔

صحت مند تنقید کا خیرمقدم ہے۔
Add a comment...

Post has attachment
دارالعلوم دیوبند کو کچھ مشورے
محمد علم اللہ
اخبارات میں خبر آئی ہے کہ دارالعلوم دیوبند اپنے فتاوی کو کاپی رائٹ کرائے گا اور ذرائع ابلاغ کے لئے ان فتاوی کی ترسیل یا اس پر تبصرے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس سلسلہ میں چند گذارشات ہیں۔
پہلی: فتوی قرآن و حدیث سے مستنبط حکم ہے اور ظاہر ہے یہ دونوں ہی کسی کی ملکیت نہیں اس لئے فتوے کا کاپی رائٹ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔
دوسری: اگر دارالعلوم دیوبند چاہتا ہے کہ میڈیا اس کے فتوے پر بات نہ کرے تو پھر وہ فتوی براہ راست سائل کو ای میل یا ڈاک سے بھیجے اور ویب سائٹ پر تشہیر سے گریز کرے۔
تیسری: دارالعلوم دیوبند کے دارالافتاء کو صرف شرعی اور فقہی معاملات پر ہی فتوے دینے چاہئیں۔ مودودی، غامدی، وحید الدین خان، ذاکر نائک یا کسی دیگر کو غلط اور طارق جمیل یا مدنی فیملی کو برحق قرار دینے سے بچنا چاہئے۔
چوتھی: بقائے باہم اور پرامن ہمہ زیستی کو فروغ دینے والے، مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے امکانات پیدا کرنے والے اور مکالمہ کو فروغ دینے والے فتاوی کی خاص طور پر تشہیر کی جانی چاہئے۔
پانچویں: اکثر غیر ضروری اور شوقیہ فتوے طلب کئے جانے کی بات کہی جاتی ہے اس لئے مناسب یہ ہوگا کہ سائل کا معاملہ سے تعلق بھی پوچھ لیا جائے اور اسی کی روشنی میں فتوی جاری کیا جائے.
چھٹی: فتوے کی مناسب بلکہ ایک موٹی رقم فیس کی شکل میں طئے کی جائے تاکہ جسے واقعی ضروری ہو وہی فتوے کے لئے رجوع کرے؛ ہر کس و ناکس شریعت کا مذاق اڑانے کے سوال داغتے نہ پھرے. اس سے فتوی دینے والے علماء کے مشاہرہ کا بھی انتظام ہو سکتا ہے۔
ساتویں: قول راجح یا صرف حنفی مسلک پر اصرار نہ کرکے دیگر ائمہ کی رائے بھی بتا دے. بزرگوں کی رائے انتہائی مجبوری کی صورت میں نقل کی جائے، کوشش ہو کہ زیادہ سے زیادہ مسائل کا استنباط قرآن و حدیث کی روشنی میں ہو.
آٹھویں : ہر فتوے کی کاپی میں یہ وضاحت بھی کر دے کہ فتوے کے جملہ حقوق دارالعلوم کی تحویل ہے، بلا اجازت کسی بھی شکل میں خواہ وہ طریقہ نقل سمعی ہو یا بصری یا کسی اور سائنسی طریقہ عمل سے کسی بھی شکل میں کسی اور مقصد کے لئے استعمال درست نہیں. ایسا کرنے والے کے خلاف کاروائی کی جا سکتی ہے.
نویں : کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت رجسٹریشن فیس رجسڑار آف کاپی رائٹ کو ادا کرکے دارالافتاء کا رجسٹریشن کرالے، اور اس کے حقوق حاصل کر لے کہ یہ دارالعلوم کی ملکیت ہو گی.
دسویں : ہر ایک کو فتوے کا اختیار نہ دے کر با ضابطہ کچھ ادارے بنائے جائیں اور ان سب کو بھی دارالعلوم کے قوانین پر عمل کرنے کا مجاز بنایا جائے، کم از کم اس کا مجاز دارالعلوم سے فارغ علماء کو تو بنایا ہی جا سکتا ہے.
Add a comment...

Post has attachment
تو کیا ملی قائدین ڈر گئے ہیں؟
تو کیا ملی قائدین ڈر گئے ہیں؟
محمد علم اللہ
ذرا دیر کو تصور کیجئے کہ اس وقت مرکز میں کوئی اور حکومت ہوتی اور اس طرح اسرائیلی وزیراعظم گاجے باجے کے ساتھ تقریبا ایک ہفتے کے دورے پر آتا تو ہمارے نام نہاد ملی قائدین کیا کر رہے ہوتے؟۔..... یقین مانیے یہ قائدین اتنا احتجاج اور اودھم مچاتے کہ حکومت کی اسرائیلی وزیراعظم کو بلانے کی ہمت ہی نہ ہوتی اور اگر دورہ ہوتا بھی تو چپ چاپ ہوتا؛
لیکن آج؟
آج انہیں ملی قائدین کی خاموشی دیکھئے کہ گھروں میں دبکے بیٹھے ہیں۔
کسی قائد کی مجال نہیں کہ مختصر سا احتجاجی مظاہرہ ہی کر لے۔ حتی کہ وہ حضرات جو ہر مسلمان نوجوان کی رہائی کا کریڈٹ لینے کے لئے اپنے زرخرید اردو رپورٹروں سے پیڈ نیوز چھپواتے ہیں وہ تک منہہ میں ریوڑیاں ڈالے بیٹھے ہیں۔
اس بات کا ایک اور ثبوت تین طلاق مخالف بل بھی ہے۔ اگر یہ بل کسی اور حکومت کے دور میں آتا تو یہ حضرات اپنے اپنے جھنڈے بینر اٹھا کر ریلیاں کر رہے ہوتے لیکن یاد کرکے بتائیے کہ لوک سبھا میں بل منظور تک ہو گیا لیکن کون سا ملی قائد تھا جس نے پرامن احتجاج کا حق استعمال کیا؟؟؟
اسرار الحق قاسمی اور بدرالدین اجمل قاسمی جیسے لوگ ایوان کے رکن ہونے کے باوجود تقیہ کرکے نکل گئے۔
اس ساری کیفیت سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں یا تو ہماری ملی قیادت اس قدر ڈری ہوئی ہے کہ اس کی ہمت ہی نہیں ہو رہی کہ جائز اور جمہوری حق کے لئے سامنے آئے۔ ان ملی قائدین کو شائد ایسا لگ رہا ہے کہ زیادہ اچھل کود کی تو یہ حکومت بہت مار مارے گی اس لئے اپنی پگڑیاں بچائے پھر رہے ہیں،
لیکن اگر ایسا نہیں ہے اور ہمارے ملی قائدین ابھی بھی خود کو غیرت مند اور نڈر مانتے ہیں اس کے باوجود سامنے نہیں آ رہے تو اس کا مطلب یہی نکالا جائے گا کہ پردے کے پیچھے سیٹنگ ہو گئی ہے۔

ہم نے ہمیشہ فلسطینیوں کے حق کے لئے آواز بلند کی ہے اور آج ظالم و جابر اسرائیل کا سربراہ ہمارے گھر آیا ہوا ہے لیکن ہم نے اس کے خلاف احتجاج تک درج کرانا مناسب نہیں سمجھا ہے، جب ان سے پوچھو تو کہا جاتا ہے کہ ابھی وقت نہیں آیا تو میں پوچھنا چاہتا ہوں وہ وقت کب آئے گا؟
Mohammad Alamullah
Add a comment...

Post has attachment
کیا ناچ گانا ہی محض سنیما ہے ؟
عقل پر تعصب کا پردہ پڑ جائے تو حقیقت نظر آنی بند ہو جاتی ہے اور اگر اس پر کم علمی کا بھی ایک پردہ چڑھا دیا جائے تو کچھ بھی دکھائی دینا نا ممکن ہے۔ خیر سنیما کو بطور میڈیم استعمال کرنے کی ضرورت پر میری فیس بک پوسٹ سے دوست خوب نالاں ہوئے۔ اس سلسلہ میں جو تبصرے آئے ہیں ان میں کچھ مناسب سوالات کی وضاحت کر دینا مناسب ہے باقی تبصرے چونکہ صرف مخالفت برائے مخالفت کی خاطر ہیں اس لئے ان پر کان دھرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔
مبصرین کی اکثریت نے پوچھا ہے کہ ایسی کوئی ایک فلم بتائیے جس نے مسلمانوں کے بارے میں مثبت نظریہ قائم کیا ہو۔ فاضل معترضین نے میری پوسٹ کو غور سے پڑھا ہوتا تو یہ سوال اٹھاتے ہی نہیں۔ میرا سارا رونا ہی یہ ہے کہ فلموں کو مسلمانوں نے بطور میڈیم استعمال نہیں کیا۔ اگر سنیما کو اپنایا ہوتا تو رونا اور شکایت ہی کس بات کی تھی؟۔
مبصرین فرماتے ہیں کہ گانے بجانے اور ناچ گانے کا نام ہی فلم ہوتا ہے۔ ان اصحاب سے میری پھر گذارش ہے کہ صرف ممبئی کی نیلی پیلی فلموں میں ہی گم نہ رہیں اور جان لیں کہ دنیا بھر میں سنیما سنجیدہ اور حساس موضوعات پر فنی باریکیوں کے ساتھ پیغام رسانی کا ذریعہ بن رہا ہے۔ کبھی وقت ملے تو پولینڈ، جرمن اور اطالوی فلموں کے بارے میں گوگل کر لیں۔
جن بھائیوں نے پوچھا ہے کہ دنیا میں کون کون سے سنجیدہ موضوعات پر فلمیں بنی ہیں۔ ان کو پوری فہرست گناؤں تو ان صفحات پر ممکن نہیں بس اتنا سن لیجئے کہ ہولوکاسٹ پر اب تک تقریبا 160 بڑی فلمیں بن چکی ہیں۔ ایسے ہی دوسری جنگ عظیم پر 300 سے زیادہ بڑی فلمیں بنی ہیں۔ ان فلموں نے یہودیوں کے ساتھ مبینہ ظلم و زیادتی کا نظریہ ذہنوں میں نقش کرکے رکھ دیا۔ خود اپنے ملک میں تقسیم کے درد اور حالات پر ایم ایس ستھیو کی فلم گرم ہوا دیکھ لیجئے،تقسیم بنگال کے بعد کے انسانی المیے پر رتوک گھٹک کی میگھے ڈھاکا تارا پر نظر ڈال لیجئے، 1984 کے سکھ مخالف فسادات پر 31 اکتوبر نام کی فلم کے بارے میں پڑھ لیجئے، یہودیوں کی مبینہ مظلومیت پر فڈلر آن دی روف اور لائف از بیوٹی فُل کو دیکھ کر فیصلہ کر لیجئے۔ سنیما نے انسانی زندگی کے آلام کو جتنا دنیا تک پہچایا ہے اتنا تو کسی دوسرے میڈیم نے پہچایا ہی نہیں۔ کیا آپ کو حیرت نہیں کہ جنگ ویتنام پر 80 بڑی فلمیں بنیں۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت کی مبینہ ظالم حکومت پر اوسامہ جیسی عالمی شہرت یافتہ فلم بنی۔ یہ تو دوچار نام ہیں جو ابھی ذہن میں آگئے۔ اس موضوع پر کتابیں کی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔
میں سارے اعتراضات کے جواب میں بس اتنی سی گذارش کروں گا کہ پہلے سنیما کی سہی تعریف جان لیجئے اور دنیا بھر میں بننے والی فلموں کے بارے میں تھوڑی جانکاری جٹا لیجئے اس کے بعد مجھے گالیاں دیجئے۔ بھائیو! میں پھر دہرا رہا ہوں بالی ووڈ کے لٹکے جھٹکے اور ناچ گانا ہی محض سنیما نہیں ہے۔
محمد علم اللہ
Add a comment...

Post has attachment
سعودیہ نہیں، اودھ کی تہذیب کا ذکر

اس تہذیب نے اپنا دربار مغلیہ دربار کے طرز پر سجایا ضرور تھا لیکن طرز اس دور سے لیا تھا جب خود مغلیہ تہذیب کا چراغ بجھا چاہتا تھا اور اس میں روشنی پھیلانے کی قوت باقی نہیں رہی تھی. متوازن و صحت مند تہذیبیں شمشیر و سناں اور طاوس و رباب میں ایک توازن قائم رکھتی ہیں اور جب یہ توازن باقی نہیں رہتا تو طاوس و رباب ساری زندگی پر حاوی ہو جاتے ہیں. اودھ کی نئی تہذیب کے ساتھ یہی صورت پیش آئی تھی. انگریزی سامراج نے اسے چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا اور حفاظت کی ذمہ داری کا احساس دلا کر تھکی ہوئی تہذیبوں کی طرح، اسے صرف راگ رنگ سے لطف اٹھانے پر مجبور کر دیا تھا. دیکھتے ہی دیکھتے راگ رنگ، لطف و مزہ، عیش پسندی اور اصراف بے جا کے رجحانات خواص و عوام تک پھیل گئے.

ماخوذ از؛ تاریخ ادب اردو جلد سوم، ڈاکٹر جمیل احمد جالبی، ص 74
Add a comment...

Post has attachment
ملت ٹائمز اور ان کے با ہمت کارکنا ن کو سلام
محمد علم اللہ

ادھر گذشتہ کئی دنوں سے یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ کچھ لوگ معروف نیوز پورٹل "ملت ٹائمز "کے خلاف اپنی ہرزہ سرائی اور زہر افشانیوں کا سلسلہ دراز کئے ہوئے ہیں ۔ دراصل یہی وہ لوگ ہیں جو جمہوریت ،اظہار رائے ، بولنے اور سوال کرنے کی آزادی پر پابندی لگا کر صحافت اور قلم کا گلا گھوٹنا چاہتے ہیں۔
برسوں سے انھوں نے یہی کام کیا ہے حق کی آواز کو مارنے اور سچ کی آواز کو دبانے کا ۔ انھیں لوگوں نے قوم کو تھپکی دے دے کر سلانے ، اپنے جھوٹے ، فرضی ،جذباتی اور خود ساختہ دین کے ذریعہ لوگوں کو حقیقت سے منحرف اورگمراہ کرنے کا کام کیا ہے تاکہ ان کی اپنی روزی روٹی اور دوکان چلتی رہے ۔
چونکہ اب ان کی دال گل نہیں رہی ہے ۔اور چند با حوصلہ اور باضمیر نوجوانوں نے ان کی چودھراہٹ اور خود ساختگی کو چیلنج کر دیا ہے تو ان کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں اور ملت کے نام پر ضمیر فروشی اور سودا بازی کرنے والے افراد اس کو برداشت نہیں کر پارہے ہیں ۔
اس لئے وہ اپنے حوارئین اور لاو لشکر کے ساتھ ان باضمیر اور باحوصلہ حق و سچ گو صحافیوں اور قلم کاروں کے خلاف پل پڑے ہیں ۔ ایسے افراد جان لیں کہ ان کی ایسی گھٹیا حرکتیں اب چلنے والی نہیں ، اب عوام بھی بیدار ہو رہی ہے اور لوگوں کو حق اور سچ کا پتہ چلنے لگا ہے اور اسی لئے یہ بہروپیے تلملا رہے ہیں ، بقولِ حبیب جالب :
میرے ہاتھوں میں قلم ہے ، میرے ذہن میں اُجالا
مجھُے کیا دبا سکے گا ، کوئی نفرتوں کا پالا
مجھُے فکرِ امنِ عالم ، تجھُے اپنی ذات کا غم
میں طلوع ہو رہا ہوں ، توُ غروب ہونے والا
میں "ملت ٹائمز"اور ان کے با حوصلہ کارکنان کو سلام پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے تمام تر نا مساعد حالات کے باوجود قلم کی حرمت کو زندہ کرنے کا کام کیا ہے ۔
Add a comment...

Post has attachment
سچ بات کوئی نہیں سننا چاہتا ۔۔۔
محمد علم اللہ

کیا کسی جذبے کا اظہار،اختلاف یا تنقید محض گلستان میں کانٹوں کی تلاش ہے ۔۔۔؟

آپ کسی بھی اہل دانش سے دریافت کریں گے تو وہ یہی جواب دے گا کہ- ہر گز نہیں !

بلکہ وہ کہے گا کہ اسی کے ذریعے صحت کا معیار قائم ہوتا ، علم و تجربے کی قدر و حیثیت متعین ہوتی اور توانا معاشرہ تشکیل پاتا ہے ۔

لیکن ہمارے معاشرے کے کچھ عناصر کا حال یہ ہے کہ آپ ذرا ان کے مزاج کے غیر موافق بات کہیے خواہ وہ حقیقت ہی کیوں نہ ہو ،وہ آپ کے اوپر چڑھ دوڑیں گے ۔لڑنے بھڑنے کے لئے تیار ہو جائیں گے، کچھ کر نہ سکیں گے تو چوراہے پر کھڑے ہو کر لعن طعن ، طنز و تشنیع اور سب و ستم کے تیر برسانے شروع کر دیں گے۔

ایسے ہی لوگوں کو افلاطون نے نرے جاہل اور سماج کا ناسور قرار دیا تھا ۔
Add a comment...

Post has attachment
Add a comment...

Post has attachment
گرمی کا موسم آ چکا ہے اس میں آم، کٹھل، جامن، تربوز اور خربوز جیسے لذیذ پھل بازار میں آ رہے ہیں. عوام سے گزارش ہے کہ انہیں کھانے کے بعد خدا کے لئے ان کے بیجوں کو کچرے میں پھینک کر ضائع نہ کریں. بلکہ انہیں صاف کرکے سکھا لیں اور سیر و تفریح کے لئے جاتے وقت وہ بیج خالی جگہوں، کھیتوں اور میدانوں میں پھیلا دیں. ان شاء اللہ آپ کی ایسی کوششوں سے متعدد نئے پھلدار درخت پیدا ہوں گے اور اس طرح آنے والے وقت کو بہتر بنانے کیلئے آج ہم اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں.

(بزرگ صحافی عالم نقوی صاحب کی جانب سے واٹس ایپ پر موصول)
Add a comment...
Wait while more posts are being loaded