Profile cover photo
Profile photo
Aftab Khan
1,885 followers -
Knowledge, Humanity, Religion, Culture, Tolerance, Peace
Knowledge, Humanity, Religion, Culture, Tolerance, Peace

1,885 followers
About
Posts

Post is pinned.Post has attachment

THE GOD: The problem is not how to make man come to belief by giving lengthy and intricate "theological" proofs of God's existence, but how to shake him into belief by drawing his attention to certain obvious facts and turning these facts into "reminders" of God. Hence the Qur'ān time and again calls itself (and also the Prophet) "a reminder" or "The Reminder".
The main points in this ceaseless, tremendous thrust for "reminding" man are (1) that everything except God is contingent upon God, including the entirety of nature (which has a "metaphysical" and a "moral" aspect); (2) that God, with all His might and glory, is essentially the all-merciful God; and (3) that both these aspects necessarily entail a proper relationship between God and Man--a relationship of the served and the servant--and consequently also a proper relationship between man and man. By a natural necessity, as it were, these normative relationships entail the law of judgment upon man both as individual and in his collective or social existence. Once we have grasped these three points, we will have understood the absolute centrality of God in the entire, system of existence, to a very large extent because the aim of the Qur'ān is man and his behavior, not God.
http://JustOneGod.blogspot.com

He is the God, other than Whom, there is none; He is the knower of the unseen and the seen, the Merciful, the Compassionate. He is the God other than Whom there is none, the Sovereign, the Holy, the One with peace and integrity, the Keeper of the Faith, the Protector, the Mighty, the One Whose Will is Power, the Most Supreme! Glory be to Him beyond what they [the pagans] associate with Him. He is the God, the Creator, the Maker, the Fashioner, to Whom belong beautiful names; whatever is in the heavens and the earth sings His glories, He is the Mighty One, the Wise One (Quran: 59.al-Ħashr:22-24).

Extracts from; "Themes of Quran": by Fazal ur Rahman :
http://freebookpark.blogspot.com/2014/10/books-by-fazlur-rehman.html
Add a comment...

Post has attachment
National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘
Add a comment...

Post has attachment
خود کش حملے اورنفاذ شریعت کے نام پر ریاست کے خلاف مسلح تصادم حرام ہی؛علماء کا فتویٰ طاقت کے بل بوتے پر اپنے نظریات دوسروں پر مسلط کرنا فساد فی الارض ہے، جہاد صرف ریاست کا اختیار ہے، فتویٰ انتہا پسندی، تشدد، فرقہ پرستی اور لسانی تعصبات جیسے عوامل کا قلع قمع ضروری ہے-
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے ادارہ تحقیقات اسلامی کی کاوشوں سے یہ بیانیہ فتوی کی شکل میں جاری ہوا- >>>>>> http://takfiritaliban.blogspot.com/2018/01/national-narrative-against-terrorism.html ...
Add a comment...

Post has attachment

Post has attachment
‏دہشت گردی حرام , خود کش حملے فساد فی الارض؛جہاد اورشریعت کا اعلان صرف ریاست کرسکتی ہے؛تمام مسالک کے علماء کےمشترکہ فتوے
http://takfiritaliban.blogspot.com
Photo
Add a comment...

Post has attachment
دفاع القدس‘ کے لیے جان نچھاور کرنے والے19 فلسطینی!
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو قابض صہیونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے تل ابیب میں قائم امریکی سفارت خانہ القدس منتقل کرنے کا حکم دیا۔

ٹرمپ کے اس غیرمنصفانہ اقدام کے خلاف فلسطینی قوم کے ساتھ ساتھ عرب اور مسلمان ممالک میں شدید رد عمل سامنے آیا۔ عالمی برادری نے بھی ٹرمپ کے اعلان القدس پرامریکا کا ساتھ نہیں دیا بلکہ عالمی برادری کے احتجاج نے ثابت کیا کہ امریکا اپنے غیر منصفانہ اقدام میں پوری دنیا میں تنہا ہوگیا ہے۔

ٹرمپ کے اس منحوس اقدام کے رد عمل میں فلسطینی عوام نے بھرپور احتجاجی تحریک شروع کردی۔ ٹرمپ کا یہ متنازع فیصلہ اعلان بالفورکے ایک سو سال پورے ہونے کے بعد سامنے آیا۔ فلسطینی جو پہلے ہی اعلان بالفور کی ایک صدی پوری ہونے کے سراپا احتجاج تھے ٹرمپ کے اعلان سے مزید مشتعل ہوگئے۔ فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینی آبادیوں اور یہودی کالونیوں کو ملانے والے مقامات پر احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔

اسرائیلی ریاست نے حسب معمول ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطینی قوم کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا استعمال کیا۔ منظم ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں القدس پر جان نچھاور کرنے والے فلسطینیوں کی تعداد 17 ہوگئی ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگاروں نے ٹرمپ کے اعلان کے بعد صہیونی ریاستی دہشت گردی میں شہید ہونے والے ان سترہ فلسطینیوں کا مختصر تعارف شائع کیا ہے۔ ان میں تیرہ فلسطینی غزہ کی پٹی اور چار غرب اردن سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں آدھے جسم والے غزہ کے ابراہیم ثریا اور ایک عمر رسیدہ خاتون بھی شامل ہیں۔

شہداء انتفاضہ نصرت القدس میں دسمبر کے مہینے میں شہید ہونے والے فلسطینی درج ذیل ہیں۔

محمود المصری، عمر 30 سال۔ انہیں 8 دسمبر 2017ء کو اسرائیلی فوج نے غزہ میں مشرقی خان یونس کے مقام پر ٹرمپ کے اعلان کے خلاف نکالی گئی ایک ریلی کے دوران گولیاں مار کر شہید کردیا گیا۔

ماھر عطا اللہ ، عمر 54 سال۔ انہیں مشرقی غزہ میں 8 دسمبر 2017ء کو شہید کیا گیا۔

محمود محمد العطل،  عمر 27سال، انہیں 9 دسمبر 2017ء کو جنوبی غزہ میں اسرائیلی بمباری میں شہید کیا گیا۔

محمد محمد الصفدی، عمر39 سال، انہیں 9 دسمبر 2017ء کو جنوبی غزہ میں القسام بریگیڈ کے ایک عسکری ونگ کے مرکز پر بمباری میں شہید کیا۔

حسین غازی نصراللہ، عمر25 سال، شہید نصراللہ کا تعلق القدس بریگیڈ کے ساتھ ہے۔ ان کی شہادت  12 دسمبر 2017ء کو ہوئی۔

مصطفیٰ السلطان، عمر 29 سال، ان کا تعلق بھی اسلامی جہاد کے القدس بریگیڈ کے ساتھ ہے۔ ان کی شہادت بھی بارہ دسمبر 2017ء کو ہوئی۔

حمدہ الزبیدات کی شہادت 13 دسمبر 2017ء کو  وادی اردن میں ہوئی۔ انہیں اسرائیلی فوج نے ایک صوتی بم حملے کا نشانہ بنایا جو ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔

یاسر سکر  عمر 23 سال، سکر کو 12 دسمبر 2017ء کو مشرقی غزہ میں جھڑپ کےدوران شہید کیا گیا۔

ابراہیم ابو ثریا، عمر 29سال۔ انہیں 15 دسمبر 2017ء کو مشرقی غزہ میں جھڑپوں کے دوران شہید کیا گیا۔ ابو ثریا نو سال قبل اسرائیل کے ایک فضائی حملے میں آدھے جسم سے محروم ہوچکے تھے۔

محمد امین عقل  عمر 19 سال، انہیں 15 دسمبر 2017ء کو رام اللہ کے قریب گولیاں مارکر شہید کیا گیا۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ امین عقل نے ایک اسرائیلی فوجی پر چاقوسے حملے کی کوشش کی تھی۔

باسل مصطفیٰ ابراہیم،عمر 29 سال، باسل ابراہیم کو 15 دسمبر 2017ء کو بیت المقدس کے نواحی علاقے عناتا میں گولیاں مارکر شہید کیا گیا۔

زکریا الکفارنہ ،  عمر 24 سال، الکفارنہ کو 22 دسمبر 2017ء کو غزہ میں جبالیا کے مقام پر سینے میں گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔

محمد نبیل محیسن، عمر 29 سال، انہیں مشرقی غزہ کی پٹی میں 22 دسمبر 2017ء کو گولیاں ماری گئیں جس کے نتیجے میں وہ جام شہادت نوش کرگئے۔

شریف العبد شلاش، عمر 28 سال، شلاش کو 23 دسمبر 2017ء کو غزہ کی پٹی میں جبالیا کے مقام پر اسرائیلی فوج کے حملے میں شہید ہوئے۔

محمد سامی الدحدوح، عمر19 سال، سامی الدحدوح کو 23 دسمبر 2017ء کو مشرقی غزہ میں ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران گولیاں ماری گئیں جس کے نتیجے میں وہ جام شہادت نوش کرگئے۔

جمال محمد جمال مصلح، عمر 20 سال،  جمال مصلح کو 30 دسمبر 2017ء کو مشرقی غزہ میں البریج کے مقام پر گولیاں مارکر شہید کیا گیا۔

سترہ سالہ مصعب فراس التمیمی کو تین دسمبر 2018ء کو رام اللہ کے قریب گولیاں مارکر شہید کیا گیا۔

16 سالہ امیر عبدالحمید ابو مساعد کو وسطی غزہ میں البریج پناہ گزین کیمپ میں 11 جنوری کو گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔

سترہ سالہ علی عمرنمر قینو کو غرب اردن کے شمالی شہر نابلس میں گیارہ جنوری 2018ء کو عراق بورین کے مقام پر گولیاں ماری گئیں جس کے نتیجے میں وہ جام شہادت نوش کرگیا۔

میں مزید پڑھیں
https:/urdu.palinfo.com/8469
جملہ حقوق بحق مرکز اطلاعات فلسطین محفوظ ہیں
Add a comment...

Post has attachment
Chairman of the Knesset House Committee, Yoav Kish proposed a bill that prevents BDS movements from financing trips made by Members of the Knesset abroad, Quds Press reported yesterday.
The news site reported the Israeli newspaper saying that the law is to be proposed to the Knesset tomorrow, noting that it is likely to be pushed through after the Ministry of Strategic Affairs identified a list of “blacklisted” organisations.

Haaretz reported Kish saying that at least one of the blacklisted groups, American Muslims for Palestine, had funded a trip made by Arab MK Ahmad Tibi.

“I tried to advance a similar measure in the past, but there was a dispute over who would determine the list of organisations and who would decide which group couldn’t legitimately fund trips for MKs,” Kish told Haaretz.

The Israeli newspaper said that the Knesset legal advisory team is examining the legal feasibility of Kish’s move and will provide its opinion in time for the next committee hearing.

For his part, Tibi said:
This is a transparent and arbitrary attempt to undermine MKs’ immunity and their freedom of movement. Boycotting the settlements is legitimate, as is everything happening with boycotting the occupation.

“We will continue to attend conferences of our choice, and I hope that the ethics committee will not turn into a government tool to restrict the opposition, including the Arab MKs.” he added,. “This flood of fascist legislation is the height of McCarthyism.”
Source: Quds Press International News Agency
Add a comment...

Post has attachment
PRESIDENT TRUMP IS CRUCIFYING JERUSALM, THE HOLY CITY OF PEACE

U.S. President Donald J. Trump officially recognized Jerusalem as the political capital of the State of Israel. With a stroke of his pen – in one fell swoop of political posturing – he betrayed centuries-old international commitments to a shared city.

Although many will shrink into their ignorance of Jerusalem’s context by applauding President Trump’s naïve and misguided claims in “the pursuit of peace,” HCEF maintains that the fate of Jerusalem cannot and should not be decided by any single political leader or foreign government.

How can it be that after 2000 years of faithful and shared custody over their Holy City, Palestinians, Christian and Muslim, should lose their right to their spiritual and geographical home overnight? It is incomprehensible to consider Jerusalem under the sole jurisdiction of any one faith or political entity.

Jerusalem should be shared by two peoples, Palestinian and Israeli, and the three monotheistic faiths of Christianity, Islam, and Judaism.

President Trump’s words and actions do not only threaten Palestinian access to the city, but they also threaten to disrupt the very character of Jerusalem itself.

As Pope Francis has cautioned in his recent remarks, Jerusalem is a unique city sacred to Jews, Christians, and Muslims, where the Holy Places for the respective religions are venerated, and [where there is] a special vocation to peace … such identity must be preserved and strengthened for the benefit of the Holy Land, the Middle East, and the entire world ….

To dedicate Jerusalem to Israel under the false pretenses of upholding a U.S.-led peace process insults our intelligence and undermines our better judgment. As Edward Said wrote in an essay on Jerusalem several years ago, a strong campaign that recognizes Jerusalem as a complex and multivalence city is precisely the kind of antidote we need to the drifting, impossibly unwise course now being undertaken … beneath the tattered banners of the peace process. I do not see that overly praised and defended process as leading to the kind of peace most people can live with for any length of time ….

If an Israeli-administered Jerusalem is the kind of peace that the U.S. and Israel hope to procure, then it seems a real and lasting peace for this generation is not at hand.

Through his words and actions, President Trump is adding himself to the long list of individuals who seek to lay claim to Jerusalem for their private interests and personal gain, disregarding the history, the laws, and the complexity of the facts on the ground.

Jesus’ earliest followers are the Palestinian Christians, the “Living stones of the Holy Land,” who are an integral part of the Palestinian people. Lest we forget, Jesus Christ, born in Bethlehem and raised in Nazareth and other parts of the Holy Land, is the only prophet who spent many years in Jerusalem. It is there where he was judged, crucified, and resurrected. We ask all Christians not to let Jerusalem and Palestinian Christians be crucified. Do not be silent as the Holy City becomes endangered.

HCEF denounces President Trump’s decision and asks that peace-loving people around the world raise their voices against any move that would hand over Jerusalem, whether symbolically or effectively, to any one single party, including the State of Israel.

We ask that in these historic moments on which the future hinges, that you stand in solidarity with the Palestinian people by advocating against any entity that would seek to destroy a shared Jerusalem. To the would-be conquerors of our Holy City, we say: “Keep your hands off of Jerusalem.” Jerusalem is for all.

God Bless

Rateb Y. Rabie, KCHC
HCEF President and CEO
Add a comment...

Post has attachment
برائیوں سے نہ روکنا عذاب الٰہی کا سبب ہے ۔ 
Add a comment...

بچیوں کی حرمت و تقدس اور معاشرہ کی ذمہ داری
وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ ﴿٨﴾ بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ ﴿٩﴾
اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری گئی؟(سورة التکویر 81:8,9)

اسلام نے عورت کو اعلی مقام عزت دی- معصوم بچیوں کو زندہ گاڑنا جو قدیم عرب معاشرہ کا رواج تھا اس کا خاتمہ کیا- آج ہمارے معاشرہ میں درندہ صفت انسانوں کا بچیوں پر جنسی تشدد اور قتل اس سے بھی بھیانک جرم ہے جو زندہ دفن کرنے سے بھی زیادہ قبیح فعل ہے – دو جرم ہیں ایک زنا اور دوسرا قتل- یہ حکمرانوں کی بے حسی اور معاشرہ کی اخلاقی پستی کی مثال ہے۔ ان آیات کو آج کے حالات پر منطبق کریں تو انسان کانپ اٹھتا ہے۔

وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاء سَبِيلاً

زنا کے قریب بھی نہ جاؤ یہ بے حیائی اور برا راستہ ہے ( قرآن؛ سورت 17 آیت 32)

زنا کی سزا حسب ثبوت وشرائط ۸۰/ کوڑے یا سنگسار ہے، البتہ زنا بالجبر کی صورت میں مجبور کیا جانے والا فریق معذور ہوگا- زناشرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے اور اسلام میں اس کے مرتکب کے لئے سخت سزائیں متعین کی گئی ہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ قتل کے بعد زنا سے بڑھ کر کوئی اور گناہ ہو۔

مزید ۔۔۔
Add a comment...
Wait while more posts are being loaded