Profile cover photo
Profile photo
Aftab Khan
Knowledge, Humanity, Religion, Culture, Tolerance, Peace
Knowledge, Humanity, Religion, Culture, Tolerance, Peace

Aftab Khan's posts

Post is pinned.Post has attachment

THE GOD: The problem is not how to make man come to belief by giving lengthy and intricate "theological" proofs of God's existence, but how to shake him into belief by drawing his attention to certain obvious facts and turning these facts into "reminders" of God. Hence the Qur'ān time and again calls itself (and also the Prophet) "a reminder" or "The Reminder".
The main points in this ceaseless, tremendous thrust for "reminding" man are (1) that everything except God is contingent upon God, including the entirety of nature (which has a "metaphysical" and a "moral" aspect); (2) that God, with all His might and glory, is essentially the all-merciful God; and (3) that both these aspects necessarily entail a proper relationship between God and Man--a relationship of the served and the servant--and consequently also a proper relationship between man and man. By a natural necessity, as it were, these normative relationships entail the law of judgment upon man both as individual and in his collective or social existence. Once we have grasped these three points, we will have understood the absolute centrality of God in the entire, system of existence, to a very large extent because the aim of the Qur'ān is man and his behavior, not God.

He is the God, other than Whom, there is none; He is the knower of the unseen and the seen, the Merciful, the Compassionate. He is the God other than Whom there is none, the Sovereign, the Holy, the One with peace and integrity, the Keeper of the Faith, the Protector, the Mighty, the One Whose Will is Power, the Most Supreme! Glory be to Him beyond what they [the pagans] associate with Him. He is the God, the Creator, the Maker, the Fashioner, to Whom belong beautiful names; whatever is in the heavens and the earth sings His glories, He is the Mighty One, the Wise One (Quran:Ħashr:22-24).

Extracts from; "Themes of Quran": by Fazal ur Rahman :

Post has attachment

Post has attachment
Rise and Fall of Nations -Quran
اقوام کے عروج و زوال کا قانون قرآن می ن واضح کر دیا گیا ہے >>>> مزید پڑھیں: خطبات اقبال - اسلام میں تفکر کا انداز جدید  Reconstruction of Religious Thought in Islam -    http...

Post has attachment
Rise and fall of Nations - Law of Quran:
Everything that happens in this world is controlled by the well-known Laws of Nature. The same is true of the rise and fall of a nation. The Quran in one of its chapters gives substance to this law thus:  God does not change the condition of a people’s lot,...

Post has attachment

Post has attachment
Islam and Modernity - The Failed Rationalist

Post has attachment
the Failed Rationalist
The growing religious-ideological discord and presence of an assortment of religiously inspired extremist movements and groups in Pakistan have complex socio-political implications. Where these processes of negative social change will lead Pakistan is a wor...

Post has attachment

Post has attachment
پہلے ایک فوجی افسر نے بڈگام کے دستکار فاروق ڈار کو پتھراؤ کے خلاف انسانی ڈھال بنایا۔ فوجی جیپ کے ساتھ کسی شکار کی طرح بندھے معصوم فاروق کی دلخراش تصویر نے دہلی سے سرینگر تک سیاسی و سماجی حلقوں کو برہم کردیا۔
مقامی حکومت اور فوج نے متوازی طور تحقیقات کا حکم دیا لیکن تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہی بھارتی فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے فاروق کو انسانی ڈھال بنانے والے میجر نتن لیتول گگوئی کو نہ صرف توصیفی اعزاز سے نوازا بلکہ ان کی اس حرکت کو 'گندی جنگ' کے دوران اپنایا گیا انو ویٹیو یعنی غیرروایتی طریقہ قرار دیا۔
نریندر مودی کی کابینہ کے بعض وزرا نے جنرل راوت کے بیان کا دفاع کیا۔ جنرل راوت نے کشمیر کو نہ صرف 'گندی' جنگ کا خطہ قرار دیا بلکہ انھوں نے خواہش ظاہر کی کہ پتھر پھینکنے والے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہتھیار ہوتے تو 'میں خوش ہو جاتا، پھر میں وہی کرتا جو میں کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ بندوق والوں سے نمٹنا آسان ہے'۔
اس سے قبل بھاجپا کے جدید نظریہ ساز رام مادھو فاروق ڈار کے معاملے سے متعلق کہہ چکے ہیں کہ 'محبت اور جنگ میں سب جائز ہے'۔ بعد میں وزیر دفاع ارون جیٹلی نے کہا کہ 'جہاں جنگ جیسی صورتحال ہو وہاں فوجی افسروں کو فیصلہ سازی میں آزاد ہونا چاہیے، انہیں ہر بار پارلیمنٹ سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں'۔
مطلب صاف ہے کہ کشمیر میں جنگ ہو رہی ہے، اور بقول جنرل راوت یہ 'گندی جنگ ہے، جسے گندے طریقوں سے کھیلا جارہا ہے'۔
کشمیر کے سیاسی اور سماجی حلقے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا حکومت ہند نے واقعی کشمیریوں کے ساتھ ایک 'گندی' جنگ کا اعلان کردیا ہے۔
انسانی حقوق کے لیے سرگرم کئی گروپوں کے اتحاد کولیشن آف سول سوسائٹیز کے ترجمان خُرم پرویز کہتے ہیں 'بھارت نے ادارہ جاتی سطح پر کشمیر میں دہائیوں سے ظلم کیا ہے۔ جنرل راوت کا بیان محض ایک اعتراف ہے۔'
ہیومن رائٹس واچ کے کینیتھ روتھ نے جنرل راوت کے بیان کو 'مجرمانہ قیادت' کا مظاہرہ قرار دیا۔ حریت کانفرنس کے رہنما میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ 'جب جنرل راوت مظاہرین کے ہاتھوں میں بندوق دیکھنا چاہتے ہیں تو عیاں ہے کہ کشمیریوں کو تشدد پرکون اُکسا رہا ہے۔'
مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کئی برس سے کشمیر میں خودمختاری کی خواہاں ہے۔ کشمیر میں تعینات 15 ویں کور کے سابق کمانڈر عرصہ دراز سے کشمیر کی انتظامیہ کو ایک سٹریٹیجک عمل کہتے آئے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ یہاں کی یونیفائیڈ کمانڈ کو دفاعی مقاصد کے لیے انتظامی فیصلہ سازی میں شریک کرنا لازمی ہے۔
واضح رہے پورے بھارت میں کشمیر واحد ریاست ہے جہاں مقامی وزیر اعلیٰ ایک فوجی ادارہ یونیفائیڈ کمانڈ کا سربراہ بھی ہوتا ہے اور دو حاضر جنرل اس کے سکیورٹی مشیر ہوتے ہیں۔ فوج، نیم فوجی ادارے، پولیس، خفیہ ایجنسیاں اور دوسری فورسز کے سربراہ اس کمانڈ کے رکن ہوتے ہیں۔

Post has attachment
Wait while more posts are being loaded