Shared publicly  - 
 
 
حضرت علی۱فرماتے ہیں!~
لا یزھد نک فی المعروف من لایشکرک علیہ فقد یشکرک من لا یستتمع بشئی منہ و قد تدرک من شکر الشاکر اکثر مما اضاع الکافر واللہ یحب المحسنین
__________________________~!!
اگر تم نے کسی کے ساتھ بھلائی کی اور اس نے تمہاری حق شناسی نہ کی تو کہیں اس کی یہ حرکت تمہیں بھلائی کرنے سے بددل نہ کر دے کیونکہ اس کی بجائے تمہاری حق شناسی وہ کرے گا جو تمہاری بھلائی سے قطعاً کبھی بہر مند نہیں ہوتا اور تم اس غیر شکرگزار کی طرف سے اس مقدار سے کہیں زیادہ پا جاؤ گے جتنا اس کفران نعمت کرنے والے نے تمہارے حق نعمت کو ضائع کیا ہے اور اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے یعنی دنیا اپنی مجموعی حیثیت میں ایک باہم وابستہ کارخانہ اور ایک عضویاتی رابطے کی حامل ہے تم اس انتظار میں نہ رہو اور یہ امید نہ رکھو کہ تم نے جس جگہ بھلائی کی ہے وہیں سے تم کو نیکی کا بدلہ بھی ملے گا کبھی کبھی بلکہ زیادہ تر تم جس جگہ پر نیکی کرتے ہو اس کا بدلہ کسی دوسری جگہ سے ملتا ہے جہاں سے تمہیں کوئی امید نہیں ہوتی کیوں؟ کیونکہ اس دنیا کا ایک خدا ہے اور خدا نیک کاروں کو دوست رکھتا ہے۔“
_______________~!!
(نہج البلاغہ حکمت نمبر
Translate
1
Add a comment...