Profile cover photo
Profile photo
tariq iqbal
9,455 followers -
Electrical Associate Engineer
Electrical Associate Engineer

9,455 followers
About
tariq's posts

Post has attachment

Post has attachment
کیا  خلافت راشدہ میں خلیفہ کے انتخاب کے طریقےکار کو جمہوری قرار دینا درست ہے ؟؟

جمہوریت کے دلدادہ لوگ کہتے ہیں کہ خلافت راشدہ کا دور سب سے زیادہ جمہوری دور تھا۔خلفائے راشدین کا انتخاب بھی جمہوری طریقے سے ہواتھااور تمام عوام نے بیعت کرکے ان چاروں کو خلیفہ مقرر کیاتھا ۔چناچہ جمہوریت اور اسلام میں کوئی تضاد نہیں ہے۔بلکہ بعض لوگ یہ کہنے کی جسارت کر بیٹھتے ہیں مغرب میں رائج جمہوری نظام دراصل خلافت راشدہ میں رائج جمہوری نظام سے اخذ کردہ ہے۔انا للہ والیہ راجعون۔ حالانکہ یہ بات قطعاً غلط اور سفید جھوٹ ہے ۔چناچہ اس شبہ کو رد کرنے کے لئے ہمیں سب سے پہلے ہم خلفائے راشدین کے طریقہ ٔ انتخاب کا مختصراً جائزہ لینا پڑے گا تاکہ اصل
صورتحال معلوم ہوسکے
 
·        جب انصار کے لوگوں نے کہ کہا کہ خلیفہ ہم میں سے ہونا چاہیے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ‏‏ نے حدیث رسولﷺ پیش کی کہ حلیفہ قریش میں سے ہو ۔چناچہ سب صحابہ خاموش ہو گئے ۔۔ ۔ کیا یہ جمہوریت تھی ؟؟
·        حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’میں چاہتا ہوں کہ تم ان دونوں میں سے (یعنی حضرت عمرفاروق اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ)میں سے کسی ایک کی بیعت کرلو۔‘‘۔لیکن دونوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں خلافت قبول کرنے سے انکار کردیا ۔حضرت عمرفاروق ر ضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ اپنا ہاتھ اٹھائیے ،انہوں نے ہاتھ بڑھایا اور حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی ،اس طرح بیعت انعقاد خلافت ہوگئی۔اس کے بعد تمام حاضرین مجلس نے بیعت کی ۔۔۔ کیا یہ جمہوریت تھی ؟؟
·        حضرت عمر ؓ کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے چند صحابہ کرام سے مشورہ کرنے بعد خلیفہ نامزد کیا ۔۔۔ کیا یہ جمہوریت تھی ؟؟
·        ’’جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر خنجر کا وار ہوا تو آپ سے کہاگیا کہ کسی کو خلیفہ بناجائیں۔آپ نے فرمایا کہ اگر ابوعبیدہ بن الجرح رضی اللہ عنہ زندہ ہوتے تو میں ان کو خلیفہ بنا جاتا‘‘۔۔۔ کیا یہ جمہوری سوچ تھی ؟؟
·        حضرت عمر ‌ؓ نے   اصحاب عشرہ مبشرہ میں سے باقی رہ جانے والے  چھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کمیٹی بنادی ۔حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ جب تک یہ لوگ اپنے میں سے کسی کو خلیفہ نہ چن لیں ،کسی کو اندر آنے یا جانے کی اجازت نہ دی جائے ۔۔۔حضرت عمرؓ کے نام پر جھوٹ بولنے والے بتائیں کہ کیا آپ ‌ؓ کا یہ طریقہ کار جمہوری تھا ؟؟
·         چھ صحابہ کی اس کمیٹی نے شورائی انداز میں کام کیا اور ایسے کردار کا مظاہرہ کیا جو ان کے شایان شان تھا۔ ان صحابہ کا کردار اس معاملے میں غیر معمولی تھا کہ چار صحابہ تو خود ہی دستبردار ہو گئے جس سے ان کی بے غرضی کا اندازہ ہوتا ہے۔ حضرت عثمانؓ سے پوچھا گیا کہ آپ خلیفہ نہ بنیں تو کسے بنایا جائے تو انہوں نے حضرت علی ؓ کا نام لیا۔ یہی سوال حضرت علیؓ سے کیا گیا تو انہوں نے حضرت عثمان ؓکا نام لیا۔ عبدالرحمٰن بن عوف ؓنے ان سے کہا: "اس معاملے میں میں آپ سے تنازعہ نہیں کروں گا (یعنی میں خلیفہ نہیں بنوں گا۔) اگر آپ چاہیں تو آپ ہی میں سے کسی کو آپ کا خلیفہ منتخب کر دوں۔ " چنانچہ انہوں نے یہ معاملہ عبدالرحمٰن بن عوف پر چھوڑ دیا۔۔ انہوں نے مدینہ کے ہر ہر شخص کے علاوہ حج سے واپس آنے والے دیگر قبائل کے لوگوں کی رائے بھی معلوم کی۔ اکثریت کی رائے حضرت عثمان کے حق میں تھی، جس کی وجہ سے انہوں نے حضرت عثمان کو خلیفہ بنانے کا اعلان کر دیا۔ ۔۔  اس معاملے میں تھوڑی سی جمہوری جھلک  یقیننا ملتی ہے جس کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کو الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا اور انہوں نے تمام افراد جن میں مرد ،عورتیں اور بچے بھی شامل تھے  ، سے مشورہ کیا اور پھر اکثریت کی رائے جان کر فیصلہ کیا ۔چناچہ یہاں پر چند ایسے نقات ہیں کہ جن کو سمجھنا ضروری ہے کہ :
·         حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ  کا شورٰی سے ایک دوسرے کےحق میں دستبردار ہونے کا کہنا ا ن کا ایک ذاتی فیصلہ تھا ، اگراہل شوریٰ متفق ہو کر کسی ایک کو خلیفہ کے طور پر نامزد کر دیتی تو پھر عام افراد سے مشورہ کرنے کی نوبت ہی   پیش نہ آتی ۔۔ ۔ تو کیا جمہوری اقدام ہو تا ؟؟
·         حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ    نے بہتر فیصلے کے لیے جس  کو بھی موزوں سمجھا ،اس سے مشورہ کیا ۔ اس کے متعلق صحابہ نے ان کو کوئی ہدایات دی تھیں ، ان کا تاریخ سے کوئی  حوالہ نہیں ملتا ۔
·         ذرا سوچئے کہ نہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ٗ نہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بلکہ کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ کو عوام کی رائے کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے یا آپ کو تمام مسلمانوں سے مشورہ کرنا چاہیے اور جسے وہ چنیں اسے خلیفہ مقرر کریں۔اگر حضور ﷺکا کوئی ایسافرمان ہوتا جس میں تمام مسلمانوں سے مشورہ کرنے کی گنجائش ہوتی تو پوری خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی تاریخ میں کوئی ایک صحابی تو اس کا ذکر کرتے۔مگر کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی ایک صحابی نے بھی کہا ہو کہ عوام سے مشورہ لیا جائے اور جس کی طرف زیادہ مسلمان ہوں اس کو خلیفہ بنایا جائے۔
·         چناچہ  انقعاد خلافت عثمانؓ کے پورے واقعہ کو اگر تفصیلی طور پر دیکھا جائےاور سمجھا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ اس کو موجودہ جمہوری  الیکشن کےطریقہ کار سے تشبیہ دینا سراسر زیادتی اور گمراہی ہے اور عوام الناس کو دھوکہ دینے کےمترادف ہے ۔اور اس کو صحابہ کرام  ؓ  کا اجماع کہنا بھی بالکل غلط ہے ۔
·         حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی میں ہی عبدالرحمن بن عوف کو خلیفہ نامزد کیا تھا لیکن جب وہ ان کی زندگی میں ہی فوت ہوگئے تو انہوں نےحضرت زبیر رضی اللہ عنہہ کے نامزد کرنے کا اردہ کیا تھا۔۔۔کیا یہ جمہوری سوچ تھی ؟؟
·        ’’شہاد ت حضرت عثمان ؓ کے بعد جب حضرت علی ؓ سے خلیفہ بننے کے لیے کہا گیا تو آپ ؓ نے فرما یا کہ "یہ اہل شوریٰ اور اہل بدر کا کام ہے ۔جسے وہ منتخب کریں وہی خلیفہ ہوگا۔پس ہم جمع ہوں گے اور اس معاملے پر غور کریں گے‘‘۔دوسرے الفاظ میں آپ کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ خلیفہ بنانے کا حق اہل حل وعقد اور صائب الرائے اشخاص کا ہے۔لیکن اس کا موقع ہی نہیں ملااور ایک شخص اشتر نخعی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور خلافت کرلی۔۔۔ کیا انعقاد خلافت علی ؓ بھی  جمہوری طریقے سے ہوئی تھی؟؟
·        البدایہ میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے قریب آپ سے لوگوں نے کہا کہ اپنا ولی عہد مقرر کردیں۔آپ نے فرمایا ’’مسلمانوں کو اسی حالت میں چھوڑوں گا جس حال میں رسول اللہ ﷺنے چھوڑا تھا ‘‘۔۔۔۔۔۔کیا یہ جمہوری سوچ تھی ؟؟
·        حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ’’اے امیر المومنین !اگر آپ فوت ہوجائیں تو ہم حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرلیں تو آپ tنے فرما یا ’’میں نہ تمہیں اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ اس سے روکتا ہوں،تم خود بہتر سمجھتے ہو‘‘۔۔۔کیا یہ جمہوری سوچ تھی ؟؟
·        امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ’’حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد قیس بن سعد نے حضرت حسن ضی اللہ عنہ سے کہا ٗ اپنا ہاتھ آگے اٹھائیے ،میں آپ کے ہاتھ پر اللہ کی کتاب اور اس کے نبی ﷺکی سنت پر بیعت کرتا ہوں چناچہ ان کی بیعت کے بعد سب نے بیعت کرلی۔۔۔ کیا یہ جمہوری طریقہ تھا ؟؟
تفصیلی معلومات کے لیے  لنک پر کلک  کریں  ۔شکریہ
 

Post has attachment

Post has attachment
موت کے بعد کے واقعات پر مبنی افسانوی طرز پر مجموعی طور پر یہ ایک اچھی کہانی ہے ۔ مصنف کا علم نہیں‌، شاید کسی عربی کتاب سے نقل کی گی ہے ۔اس کی چند باتوں‌ پر اعتراض کیا جا سکتا ہے ۔ تاہم اس میں‌ ہمارے لیے سوچنے کے کئی پہلو موجود ہیں کہ جن کے بارے میں‌ ہم زندگی میں‌ بہت کم سوچتے ہین‌۔۔ خود بھی پڑھین اور بہتر سمجھیں‌ تو آگے بھی شئر کریں‌۔ (طارق اقبال سوہدروی)
مجھ پر کیا بیتی؟موت کے بعد کے واقعات پر مبنی حیرت انگیز افسانہ
ریاض جانے کے لیے ایک گھنٹہ پہلے گھر سے نکلا۔ لیکن راستے میں رش اور چیکنگ کی وجہ سے میں ائیرپورٹ لیٹ پہنچا۔ جلدی سے گاڑی پارکنگ میں کھڑی کی، اور دوڑتے ہوئے کاﺅنٹر پر جا پہنچا۔ کاﺅنٹر پرموجود ملازم سے میں نے کہا۔ مجھے ریاض جانا ہے، اس نے کہا ریاض والی فلائٹ کی بورڈنگ تو بند ہو چکی ہے، میں نے کہا پلیز مجھے ضرور آج شام ریاض پہنچنا ہے۔ اُس نے کہا زیادہ باتوں کی ضرورت نہیں ہے۔ اس وقت آپکو کوئی بھی جانے نہیں دے گا۔ میں نے کہا اللہ تمھارا حساب کردے۔ اس نے کہا اس میں میرا کیا قصور ہے؟

Post has attachment
خلافتِ عثمانیہ (خلافتِ راشدہ، خلافت امویّہ اور خلافتِ عباسیہ کے بعد) اسلامی تاریخ کی چوتھی بڑی خلافت تھی۔ اس میں تقریباً 642 سال از 1282ء تا 1924ء تک 37 حکمران مسند آرائے خلافت ہوئے۔ پہلے 8 حکمران سلطان تھے۔ خلیفۃ المسلمین نہ تھے۔ انہیں اسلامی سلطنت کی سربراہی کا اعزاز تو حاصل تھا، خلافت کا روحانی منصب حاصل نہ تھا۔ 9 ویں حکمران سلطان سلیم اوّل سے لے کر 36 ویں حکمران سلطان وحید الدین محمد سادس تک 30 حضرات سلطان بھی تھے اور خلیفہ بھی، کیونکہ خلافتِ عباسیہ کے آخری حکمران نے سلطان سلیم کو منصب و اعزاز خلافت کی سپردگی کے ساتھ وہ تبرکاتِ نبویہ بھی بطور سند و یادگار دے دیے تھے جو کہ خلفائے بنو عباس کے پاس نسل در نسل محفوظ چلے آرہے تھے۔ یکم نومبر 1922ء کو چونکہ مصطفی کمال پاشا نے مغربی طاقتوں اور ’’برادری‘‘ کی ایما پر ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کے ذریعے سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کی قرارداد منظور کرکے خلیفہ اسلام، عثمانی سلطان محمد وحید الدین ششم کی اٹلی کی طرف ملک بدری کے احکامات جاری کردیے تھے، اس لیے اس نامبارک دن سلطنت ختم ہوگئی، البتہ خلافت اب بھی باقی تھی۔ سلطان وحید الدین ششم کی جلا وطنی کے بعد ان کے پہلے قریبی رشتہ دار عبدالمجید آفندی کو آخری عثمانی خلیفہ بنایا گیا، مگر 3 مارچ 1924ء کو ترکی کی قومی اسمبلی نے ایک مرتبہ پھراسلام دشمنی اور مغرب پروروں کا ثبوت دیتے ہوئے اتاترک کی قیادت میں اسلامی خلافت کے خاتمے کا قانون بھی منظور کرلیا۔
اس طرح آخری خلیفہ جو سلطان نہ تھے، خلیفہ عبدالمجید دوم کی اپنے محل سے رخصتی اور پہلے سوئٹزرلینڈ پھر فرانس جلاوطنی کے ساتھ ہی سلطنت عثمانیہ کے بعد خلافتِ عثمانیہ کے سقوط کا المناک سانحہ بھی پیش آگیا

Post has attachment
میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں
وہ چپ چاپ کرسی پہ بیٹھ گئی، اسکی نگاہیں چاہے میز پہ مرکوز تھیں پر ان میں سے اٹھتا درد میں بخوبی محسوس کررہا تھا۔
میز پہ کھانا لگاتے ہوئے اسکا پورا دھیان پلیٹیں سجانے میں تھا اور میری آنکھیں اسکے چہرے پہ جمی تھیں۔ میں نے آہستگی سے اسکا ہاتھ تھاما تو وہ چونک سی گئی۔"میں تم سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں" کافی ہمت جتانے کے بعد بلآخر میرے منہ سے نکلا۔
ایک پل کے لیے میری زبان پہ تالہ سا لگ گیا پر جو میرے دماغ میں چل رہا تھا اسے بتانا بہت ضروری تھا۔
"میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں۔۔۔۔" میری آنکھیں جھک گئیں
میری امید کے برعکس اس نے کسی قسم کی حیرانی یا پریشانی کا اظہار نہ کیا بس نرم لہجے میں اتنا پوچھا
"کیوں۔۔۔۔۔؟"
میں نے اسکا سوال نظرانداز کیا۔ اسے میرا یہ رویہ گراں گزرا۔ ہاتھ میں پکڑا چمچ فرش پہ پھینک کے وہ چلانے لگی اور یہ کہہ کے وہاں سے اٹھ گئی کہ
"تم مرد نہیں ہو۔۔۔"
رات بھر ہم دونوں نے ایکدوسرے سے بات نہیں کی۔ وہ روتی رہی۔ میں جانتا تھا کہ اسکے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر ہماری شادی کو ہوا کیا ہے۔۔۔ میرے پاس اس دینے کے لیے کوئی تسلی بخش جواب نہیں تھا۔ اسے کیا بتاتا کہ میرے دل میں اسکی جگہ اب کسی اور نے لے لی ہے۔۔۔ اب اسکے لیے میرے پاس محبت باقی نہیں رہی۔ مجھے اس پہ ترس تو بہت آرہا تھا اور ایک پچھتاوا بھی تھا۔ پر اب میں جو فیصلہ کر چکا تھا اس پہ ڈٹے رہنا ضروری تھا۔
طلاق کے کاغذات عدالت میں جمع کرانے سے پہلے میں نے اس کی ایک کاپی اسے تھمائی جس پہ لکھا تھا کہ وہ طلاق کے بعد گھر، گاڑی اور میرے ذاتی کاروبار کے 30 فیصد کی مالکن بن سکتی ہے۔
اس نے ایک نظر کاغذات پہ دوڑائی اور اگلے ہی لمحے اسکے ٹکڑے کرکے زمین پہ پھینک دیے۔ جس عورت کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کے دس سال بتائے تھے وہ ایک پل میں اجنبی ہوگئی۔ مجھے افسوس تھا کہ اس نے اپنے انمول جذبات اور قیمتی لمحے مجھ پہ ضائع کیے پر میں بھی کیا کرتا میرے دل میں کوئی اور اس حد تک گھر کر چکا تھا کہ اس کھونے کا تصور ہی میرے لیے ناممکن تھا۔
بلآخر وہ ٹوٹ کے بکھری اور میرے سامنے ریزہ ریزہ ہوگئی۔ اسکی آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر امڈ آیا تھا۔ شائد یہی وہ چیز تھی جو اس طلاق کے بعد میں دیکھنا چاہتا تھا۔
اگلے روز پورا دن اپنی نئی محبت کے ساتھ بتا کے جب میں تھکا ہارا گھر پہنچا تو وہ میز پہ کاغذ پھیلائے کچھ لکھنے میں مصروف تھی۔ میں نے اس پہ کوئی دھیان نہ دیا اور جاتے ہی بستر پہ سو گیا۔ دیر رات جب میری آنکھ کھلی تو وہ تب بھی کچھ لکھ رہی تھی۔ اب بھی میں نے اس سے کوئی سوال نہیں کیا۔
صبح جب میں اٹھا تو اس نے طلاق کی کچھ شرائط میرے سامنے رکھ دیں۔ اسے میری دولت اور جائیداد میں سے کچھ نہیں چاہیے تھا۔ وہ بس ایک مہینہ مزید میرے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔ اس ایک مہینے میں ہمیں اچھے میاں بیوی کی طرح رہنا تھا۔ اس شرط کی بہت بڑی وجہ ہمارا بیٹا تھا جسکے کچھ ہی دنوں میں امتحانات ہونیوالے تھے۔ والدین کی طلاق کا اسکی تعلیم پہ برا اثر نہ پڑے اس لیے میں اسکی یہ شرط ماننے کو بالکل تیار تھا۔
اسکی دوسری اور احمقانہ شرط یہ تھی کہ میں ہرصبح اسے اپنی باہوں میں اٹھا کے گھر کے دروازے تک چھوڑنے جاؤں۔ جیسا شادی کے ابتدائی دنوں میں مَیں کرتا تھا۔ وہ جب کام پہ باہر جانے لگتی تو میں خود اسے اپنی باہوں میں اٹھا کے دروازے تک چھوڑ آتا تھا۔ حالانکہ میں اسکی یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھا لیکن ان آخری دنوں میں اسکا دل توڑنا مناسب نہیں لگ رہا تھا اس لیے میں نے یہ شرط بھی مان لی۔
اس کی ان شرائط کے بارے میں جب میں نے اپنی نئی محبت سے ذکر کیا تو وہ ہنس بولی
"وہ چاہے جو بھی کرلے ایک نہ ایک دن طلاق تو اسے ہونی ہی ہے"
میری بیوی اور میں نے اپنی طلاق کے معاملے سے متعلق کسی اور سے ذکر نہ کیا۔
شرط کے مطابق پہلے دن جب مجھے اسے اٹھا کے دروازے تک چھوڑنے جانا تھا تو وہ لمحات ہم دنوں کے لیے بے حد عجیب تھے۔ ہچکچاتے ہوئے میں نے اسے اٹھایا تو اس نے بھی اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ اتنے میں تالیوں کی ایک گونج ہم دونوں کے کانوں میں پڑی
"پاپا نے ممی کو اٹھایا ہوا ہے۔۔۔۔۔ ہاہاہا" ہمارا بیٹا خوشی میں جھوم رہا تھا۔
اسکے الفاظوں سے میرے دل میں ایک درد سا اٹھا اور میری بیوی کی کیفیت بھی لگ بھگ میرے جیسی تھی۔
"پلیز۔۔۔ ! اسے طلاق کے بارے میں کچھ مت بتانا" وہ آہستگی سے بولی
میں نے جواباً سر ہلایا
اسے دروازے تک چھوڑ کے بعد میں اپنے آفس کی طرف نکل پڑا اور وہ بس سٹاپ کی طرف چل دی۔
اگلی صبح اسے اٹھانا میرے لیے قدرے آسان تھا، اور اسکی ہچکچاہٹ میں بھی کمی تھی۔ اس نے اپنا سر میری چھاتی سے لگا لیا۔ ایک عرصے بعد اسکے جسم کی خوشبو میرے حواس سے ٹکرائی۔ میں بغور اسکا جائزہ لینے لگا۔ چہرے کی گہری جھریاں اور سر کے بالوں میں اتری چاندی اس بات کی گواہ تھیں کہ اس نے اس شادی میں بہت کچھ کھویا ہے۔
چار دن مزید گزرے، جب میں نے اسے باہوں میں بھر کے سینے سے لگایا تو ہمارے بیچ کی وہ قربت جو کہیں کھو سی گئی تھی واپس لوٹنے لگی۔ پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ قربت کے وہ جذبات بڑھتے گئے۔
لمحے دنوں کو پَر لگا کے اڑا لے گئے اور مہینہ پورا ہوگیا۔
اس آخری صبح میں جانے کے لیے تیار ہورہا تھا اور وہ بیڈ پہ کپڑے پھیلائے اس پریشانی میں مبتلا تھی کے آج کونسا لباس پہنے۔ کیوں کہ پرانے سارے لباس اسکے نحیف جسم پہ کھلے ہونے لگے تھے۔ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کتنی کمزور ہوگئی ہے۔ شائد اسی لیے میں اسے آسانی سے اٹھا لیتا تھا۔ اسکی آنکھوں میں امڈتے درد کو دیکھ کے نہ چاہتے ہوئے بھی میں اسکے پاس چلا آیا اور اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔
"پاپا۔۔۔ ! ممی کو باہر گھمانے لے جائیں۔۔۔۔ " ہمارے بیٹے کی آواز میرے کانوں میں پڑی۔ اسکے خیال میں اس پل یہ ضروری تھا کہ میں کسی طرح اسکی ماں کا دل بہلاؤں۔
میری بیوی بیٹے کی طرف مڑی اور اسے سینے سے لگا لیا۔ یہ لمحہ مجھے کمزور نہ کردے یہ سوچ کے میں نے اپنا رخ موڑ لیا۔
آخری بار میں نے اسے اپنی باہوں میں اٹھایا اس نے بھی اپنے بازو میری گردن کے گرد حائل کردیے۔ میں نے اسے مظبوطی سے تھام لیا۔ میری آنکھوں کے سامنے شادی کا وہ دن گردش کرنے لگا جب پہلی بار میں اسے ایسے ہی اٹھا کے اپنے گھر لایا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ مرتے دم تک ایسے ہی ہر روز اسے اپنے سینے سے لگا کے رکھوں گا۔ میرے قدم فرش سے شائد جم سے گئے تھے اسی لیے میں بامشکل دروازے تک پہنچا۔ اس نیچے اتارتے ہوئے میں نے اسکے کان میں سرگوشی کی
"شائد ہمارے درمیان قربت کی کمی تھی"
وہ میری آنکھوں میں دیکھنے لگی اور میں اسے وہیں چھوڑ کے اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔ تیز رفتار میں گاڑی چلاتے ہوئے بار بار ایک خوف میرے دل میں گھر کررہا تھا کہ کہیں میں کمزور نہ پڑ جاؤں، اپنا فیصلہ بدل نہ دوں۔ میں نے اس گھر کے دروازے پہ بریک لگائی جہاں نئی منزل میرا انتظار کررہی تھی۔ دروازہ کھلا اور وہ مسکراتے ہوئے میرے سامنے آئی
"مجھے معاف کردو۔ میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دے سکتا" میرے منہ سے نکلے یہ الفاظ اسکے لیے کسی دھماکے سے کم نہیں تھے۔ وہ میرے پاس آئی اور ماتھے پہ ہاتھ رکھ کے بولی
"شائد تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے یا پھر تم مذاق کررہے ہو"
"نہیں ۔۔۔ ! میں مذاق نہیں کررہا۔ شائد ہماری شادی شدہ زندگی بے رنگ ہوگئی ہے پر میرے دل میں اسکے لیے محبت اب بھی زندہ ہے۔ بس اتنا ہوا ہم ہر وہ چیز بھول گئے جو اس ساتھ کے لیے ضروری تھی۔ دیر سے سہی پر مجھے سب یاد آگیا ہے۔ اور ساتھ نبھانے کا وہ وعدہ بھی یاد ہے جو شادی کے پہلے دن میں نے اس سے کیا تھا"
نئے ہر بندھن کو توڑ کے بعد میں پرانے بندھن کو دوبارہ جوڑنے کے لیے واپس لوٹا۔ میرے ہاتھ میں پھولوں کا ایک گلدستہ تھا جس میں موجود پرچی پہ لکھا تھا
"میں ہر روز ایسے ہی تمہیں اپنی باہوں میں اٹھا کے دروازے تک چھوڑنے آؤں گا۔ صرف موت ہی مجھے ایسا کرنے سے روک سکتی ہے"
میں اپنے گھر میں داخل ہوا اور دوڑتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ میرے پاس اپنے بیوی کو دینے کے لیے زندگی کا سب سے بڑا تحفہ تھا۔
میں جب اس سے چند لمحوں کی دوری پہ تھا تبھی زندگی کی ڈور اسکے ہاتھوں سے سرک گئی۔
کئی مہینوں تک کینسر کی بیماری سے لڑتے لڑتے وہ ہار چکی تھی۔ نہ اس نے کبھی اپنی تکلیف کا مجھ سے ذکر کیا اور نہ ہی مصروف زندگی نے مجھے اس سے پوچھنے کا موقع دیا۔ جب اسے میری سب سے زیادہ ضرورت تھی تب میں کسی اور کے دل میں اپنے لیے محبت کھوج رہا تھا۔
وہ جانتی تھی کے اسکے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کے اسکی موت سے قبل طلاق کا اثر ہمارے بیٹے کے دل میں میرے لیے نفرت کا بیج بو دے۔ اس لیے بیتے ایک مہینے میں اس نے بیٹے کے سامنے انتہائی محبت کرنیوالے شوہر کا میرا روپ نقش کردیا۔۔۔ جو حقیقی تو نہیں تھا پر دائمی ضرور بن
یہ کہانی ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے بے رنگ رشتوں میں رنگ بھرنے کی بجائے ان سے دور بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کئی بار یہ سمجھنے میں ہم دیر کر دیتے ہیں کہ نئے رشتے قائم کرنا زیادہ صحیح ہے یا پھر پرانے رشتوں میں رنگ بھرے جائیں۔۔۔۔؟ اسکا فیصلہ آپکے ہاتھ میں ضرور ہے لیکن ایسا نہ ہو کہ آپ وقت پہ فیصلہ نہ کر سکیں اور اس تاخیر میں ہاتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خالی رہ جائیں۔ تو دیر مت کیجئے۔


Post has attachment

Post has attachment
ہمارے گھر کے قریب ایک بیکری ہے..اکثرشام کے وقت کام سے واپسی پر میں وہاں سے صبح ناشتے کے لئے کچھ سامان لے کے گھر جاتا ہوں..آج جب سامان لے کے بیکری سے باہر نکل رہا تھا کہ ہمارے پڑوسی عرفان بھائی مل گئے...وہ بھی بیکری سے باہر آرہے تھے...میں نے سلام دعا کی اور پوچھا.
"کیا لے لیا عرفان بھائی؟"
کہنے لگے .."کچھ نہیں حنیف بھائی! وہ چکن پیٹس تھے..اور جلیبیاں تھیں بیگم اور بچوں کے لئے"
میں نے ہنستے ہوئے کہا..."کیوں..آج کیا بھابھی نے کھانا نہیں پکایا"
کہنے لگے.."نہیں نہیں حنیف بھائی! یہ بات نہیں ہے...دراصل آج دفتر میں شام کے وقت کچھ بھوک لگی تھی تو ساتھیوں نے چکن پیٹس اور جلیبیاں منگوائیں ...میں نے وہاں کھائے تھے تو سوچا بیچاری گھر میں جو بیٹھی ہے وہ کہاں کھانے جائے گی..اس کے لئے بھی لے لوں... یہ تو مناسب نہ ہوا نہ کہ میں خود تو آفس میں جس چیز کا دل چاہے وہ کھالوں..اور بیوی بچوں سے کہوں کہ وہ جو گھر میں پکے صرف وہی کھائیں..."
میں حیرت سے ان کا منہ تکنے لگا ..کیوں کہ میں نے آج تک اس انداز سے نہ سوچا تھا..
میں نے کہا..."اس میں حرج ہی کیا ہے عرفان بھائی! آپ اگر دفتر میں کچھ کھاتے ہیں تو...بھئی بھابھی اور بچوں کو گھر میں جس چیز کا دل ہوگا کھاتے ہوں گے"
وہ کہنے لگے.."نہیں نہیں حنیف بھائی! وہ بیچاری تو اتنی سی چیز بھی ہوتی ہے میرے لئے الگ رکھتی ہے...یہاں تک کہ اڑوس پڑوس سے بھی اگر کسی کے گھر سے کوئی چیز آتی ہے تو اس میں سے پہلے میرا حصّہ رکھتی ہے..بعد میں بچوں کو دیتی ہے...اب یہ تو خود غرضی ہوئی نہ کہ میں وہاں دوستوں میں گل چھڑے اڑاؤں..."
میں نے حیرت سے کہا.."گل چھڑے اڑاؤں....یہ چکن پیٹس...یہ جلیبیاں...یہ گل چھڑے اڑآنا ہے عرفان بھائی؟ اتنی معمولی سی چیزیں.."
وہ کہنے لگے..." کچھ بھی ہے حنیف بھائی! مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ آخرت میں کہیں میری اسی بات پر پکڑ نہ ہو کہ کسی کی بہن بیٹی بیاہ کے لائے تھے...خود دوستوں میں مزے کر رہے تھے اور وہ بیچاری گھر میں بیٹھی دال کھارہی تھی..."
میں حیرت سے انہیں دیکھتا رہا..اور وہ بولے جارہے تھے.."دیکھئے...ہم جو کسی کی بہن بیٹی بیاہ کے لاتے ہیں نا...وہ بھی ہماری طرح انسان ہوتی ہے..اسے بھی بھوک لگتی ہے...اس کی بھی خواہشات ہوتی ہیں...اس کا بھی دل کرتا ہے طرح طرح کی چیزیں کھانے کا.....پہنے اوڑھنے کا...گھومنے پھرنے کا...اسے گھر میں پرندوں کی طرح بند کردینا...اور دو وقت کی روٹی دے کے اترانا ...کہ بڑا تیر مارا...یہ انسانیت نہیں...یہ خود غرضی ہے...اور پھر ہم جیسا دوسرے کی بہن اور بیٹی کے ساتھ کرتے ہیں...وہی ہماری بہن اور بیٹی کے ساتھ ہوتا ہے"
ان کے آخری جملے نے مجھے ہلا کے رکھ دیا...میں نے تو آج تک اس انداز سے سوچا ہی نہیں تھا..
میں نے کہا..."آفرین ہے عرفان بھائی! آپ نے مجھے سوچنے کا ایک نیا زاویہ دیا..."
میں واپس پلٹا تو وہ بولے .."آپ کہاں جارہے ہیں؟"
میں نے کہا" آئسکریم لینے..........وہ آج دوپہر میں آفس میں آئسکریم کھائی تھی"

Post has attachment
پاکستان کے آئین میں انسانی اخلاق اور صاف و شفاف کردار کو ثابت کرنے کے لیے صرف دو اسلامی اصطلاحات ’’صادق‘‘ اور ’’امین‘‘ استعمال ہوئی ہیں جس پر آج تک بحث چلتی ہے۔ کوئی سیاست دان انھیں ماننے کو تیار نہیں۔ کتنے بڑے بڑے دانشور اور تجزیہ نگار اپنے تعصب اور نفرت کا اظہار ان الفاظ سے کرتے ہیں۔ کیا کسی حکمران‘ ممبر اسمبلی یا سینیٹر کو سچا اور امانت دار نہیں ہونا چاہیے۔ آپ کوئی بھی لفظ بول لیں‘ راست گو کہہ لیں Truthful کہہ لیں‘ Trustee کہہ لیں وہ ماننے کو تیار ہیں لیکن جیسے ہی لفظ ’’صادق‘‘ اور ’’امین‘‘ استعمال ہوتا ہے تو چیخیں نکل جاتی ہیں۔ اس لیے کہ ان دونوں الفاظ سے وہ معیارات ذہن میں آتے ہیں جو قرآن اور حدیث طے کرتی ہے۔
آئین میں یہ صرف دو اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں تو وہ پورا تہذیبی نظام خوفزدہ ہے جو اپنی بددیانتی‘ جھوٹ‘ مکر و فریب‘ ریا کاری‘ خیانت‘ کرپشن‘ رشوت خوری اور اقربا پروری جیسے جرائم کو اصطلاحات کی آڑ میں چھپا کر ایک طرز زندگی مہیا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے جج کو قاضی نہیں کہتے کہ پھر ہمیں معیار مدینہ سے لانا پڑے گا‘ ہم اپنے حکمران کو امیر یا خلیفہ نہیں کہتے کہ پھر لوگ ان سے ویسا ہی طرز عمل طلب کریں گے جو ان عہدوں پر سید الانبیاء کے صحابہ نے اختیار کیا تھا۔ یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے آئین کی ایک کتاب تحریر کی جاتی ہے تا کہ لوگ انھی اصطلاحات میں سوچنا اور زندگی گزارنا شروع کریں۔
دنیا کا کوئی آئین ایسا نہیں جس کی ہزاروں مختلف توجیہات نہ ہوں۔ ہر کسی کی اپنی توجیہہ ہوتی ہے لیکن وہ نافذ ہوتا ہے۔ بس ایک ادارے کو اس کی توجیہہ کرنے کا اختیار دے دیا جاتا ہے جیسے سپریم کورٹ لیکن آپ کہیں کہ قرآن کو آئین بنا دو تو آواز اٹھتی ہے کونسی توجیہہ نافذ کریں۔ کتنا آسان ہے کہ ایک ادارہ بنا دو جسے توجیہہ کا اختیار دے دو لیکن یہ کوئی نہیں کرے گا۔ وہ تمہیں اپنی اصطلاحات میں قید رکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں کوئی اسلام کی اصطلاحات کا استعمال کرنے لگے تو اسے دقیانوس‘ فرسودہ‘ غیر ترقی یافتہ اور دیگر القاب سے نوازا جاتا ہے۔ اصل خوف یہ ہے کہ اگر اصطلاحات استعمال ہونا شروع ہو گئیں تو معیار زندہ ہو جائیں گے۔

Post has shared content
Wait while more posts are being loaded