Profile

Cover photo
adil mushtaq
3,512 followers|61,526 views
AboutPostsPhotosYouTube

Stream

 
Qrtyuiopasdfgjk. U32îopaddfghjlzxcvb ,: .llopplllp
1
Add a comment...

adil mushtaq

Shared publicly  - 
 
د ع و

دَعَا۔ کے معنی کسی کو پکارنے اور بلانے کے ہیں۔ چنانچہ اَلدَّعَاءَ ۃ۔ُ اس انگلی (سبابہ) کو کہتے ہیں جس سے اشارہ کر کے کسی کو بلایا جائے۔ اَلدَّاعِیَةُ ۔جنگ میں گھوڑوں کی چیخ پکار کو کہتے ہیں۔ ھُوَ مِنِّی دَعْوَۃَ لرَّجُلِ کے معنی ہیں وہ مجھ سے اتنی دور ہے کہ وہاں تک آدمی کی آواز پہنچ جاتی ہے*(تاج)۔ ابن فارس نے کہا ہے کہ اس کے بنیادی معنی ہیں کسی کو اپنی آواز یا بات سے اپنی طرف مائل کرنا۔
دَعَاہُ اِلَی الْاَمَیْرِ کے معنی ہیں وہ اسے امیر کی طرف لے گیا۔ اس اعتبار سے دَاعٍ صرف بلانے والے ہی کو نہیں کہتے بلکہ اسے بھی کہتے ہیں جو کسی کو کسی دوسرے کی طرف لے جائے*(تاج) اِدِّعَاءٌ ۔ (یَدَّعُوْنَ) کے معنی تمنا کرنے کے ہیں*(تاج) ۔ یا کسی چیز کو پکار پکار کر بلانے کے [28:67]۔
تَدَاعَوْا عَلَیْهِ کے معنی ہیں وہ اس کے خلاف جمع ہو گئے۔ اور تَدَاعٰی عَلَیْہ الْعَدُوُّ مِنْ کُلِّ جَانِبٍ کے معنی ہیں دشمن نے ہر طرف سے اس پر حملہ کر دیا۔ تَدَاعَتِ الحِیْطَانُ کے معنی ہیں دیواریں یکے بعد دیگرے گر پڑیں*(تاج)۔
دَعَوْتُهٗ زَیْدًا۔ میں نے اس کا نام زید رکھ دیا۔ اَلدَّعِیُّ۔ وہ لڑکا جسے متبنی بنا لیا جائے*(تاج) ۔ اس کی جمع اَدْعِیَاءُ ہے [33: 4]۔
اَلدَّعِیَةُ ۔ اس دودھ کو کہتے ہیں جسے تھنوں میں اس لیے چھوڑ دیا جاتا ہے کہ اس کے سہارے باقی ماندہ دودھ نکالا جا سکے*(تاج) ۔ نیز سبب یا باعث۔ اَلدَّوَاعِیْ۔ ان چیزوں کو کہتے ہیں جو انسان کے جذبات کو ابھار دیں اور اس کے اندر ہیجان پیدا کر دیں**(محيط)۔ (ان معانی کو اچھی طرح پیش نظر رکھنا چاہئے کیونکہ ان سے دُعَاءٌ کے مفہوم پر روشنی پڑتی ہے)۔
وَادْعُوْا شُهَدَاۗءَكُمْ [2: 23]کے معنی ہیں تم اپنے مددگاروں کو بلاؤ۔ سورۃ کہف میں نَادَیٰ اور دَعَا دونوں مرادف معنوں میں استعمال ہوئے ہیں [18: 52]۔ سورۃ اعراف میں دَعَا کے مقابل میں صَمَتَ کا لفظ آیا ہے [7: 193]جس کے معنی چپ رہنے کے ہیں۔ لہٰذا دَعَا کے معنی پکارنے یا بلانے کے ہوئے۔
سورۃ بقرہ میں ہے فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ[2: 61]۔جس کے معنی ہیں ہمارے لیے اپنے پروردگار کو پکار۔ الدَّعْویٰ۔ پکار۔ مطالبہ ۔ تقاضا۔ [10:10]۔
اب ہمارے سامنے دُعَا کا وہ گوشہ آتا ہے جو مذہب اور فلسفہ کی دنیا میں سب سے مشکل مسئلہ سمجھا جاتا ہے اور جس کا صحیح مفہوم سامنے نہ ہونے سے طرح طرح کے شکوک اور خدشات لاحق ہو جاتے ہیں۔ یہ گوشہ ہے"خدا سے دعا مانگنے" کا ۔ان شکوک و خدشات کو سمجھنے کے لیے جن کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے ایک مثال پر غور کیجئے۔ کسی مقدمہ میں زید مدعی ہے اور بکر مدعا علیہ۔ زید خدا سے دعا کرتا ہے کہ مقدمہ کا فیصلہ اس کے حق میں ہو جائے۔ اس سے حسب ذیل سوالات سامنے آتے ہیں۔
(الف) ایک گروہ کا عقیدہ یہ ہے کہ انسان کے تمام معاملات کے فیصلے خدا کے ہاں پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں۔ اگر یہ ٹھیک ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ چیز بھی پہلے سے طے شدہ ہو گی کہ اس مقدمہ میں زید کو شکست ہو گی یا فتح۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ پہلے سے طے شدہ تھا کہ زید کو شکست ہو گی تو کیا زید کے دعا کرنے سے خدا اپنے پہلے فیصلے کو بدل دے گا اور زید مقدمہ ہارنے کے بجائے جیت جائے گا؟ اگر ایسا ہو تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ خدا اپنے فیصلوں کو انسانوں کی مرضی کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ یعنی خدا، انسانوں کی مرضی کے تابع چلتا ہے۔ خدا کے متعلق یہ تصور کسی طرح بھی صحیح نہیں ہو سکتا۔
(ب)فرض کیجئے کہ زید اپنے دعویٰ میں جھوٹا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس کے دعا کرنے سے،خدا مقدمہ کا فیصلہ اس کے حق میں کر دے گا؟ اگر ایسا ہو تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ خدا نے جھوٹے کے حق میں فیصلہ کر دیا اور سچے کو اس کے حق سے محروم کر دیا۔ خدا کے متعلق یہ تصور بھی غلط ہے۔
(ج) فرض کیجئے کہ زید اپنے دعویٰ میں سچا ہے۔ اگر زید خدا سے دعا نہ کرے تو کیا مقدمہ کا فیصلہ اس کے حق میں ہو گا یا نہیں؟ اگر دعا کے بغیر فیصلہ اس کے حق میں نہیں ہو سکتا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ خدا از خود سچے کے حق میں فیصلہ نہیں دیتا ۔ سچے کو اپنے حق میں فیصلہ لینے کے لیے خدا سے منت خوشامد کرنی پڑتی ہے۔ خدا کے متعلق یہ تصور بھی غلط ہے۔
اور اگر خدا سچے کے حق ہی میں فیصلہ کرتا ہے خواہ وہ دعا کرے یا نہ کرے، تو زید کے دعا کرنے یا نہ کرنے سے کچھ فرق نہیں پڑے گا۔ خدا کو بہر حال اس کے حق میں فیصلہ کرنا تھا۔ اس صورت میں دعا ایک بیکار عمل ہوا۔
(د) یہ ظاہر ہے کہ مقدمہ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے انسان کوکوشش کرنی پڑتی ہے۔ ناجائز نہ سہی، جائز ہی سہی ۔ کوشش تو ضرور کرنا پڑتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر زید صرف دعا کرے لیکن کوشش نہ کرے تو کیا وہ مقدمہ جیت جائے گا؟ اگر وہ صرف دعا سے مقدمہ جیت جائے تو الله تعالیٰ نے انسان کے لیے عمل (کوشش کرنے) پر جو اس قدر زور دیا ہے تو وہ سب بے کار ہو گا۔
اور اگر کوشش کے بغیر مقدمہ نہیں جیتا جا سکتا تو پھر دعا کا فائدہ کیا ہوا؟
(س)اگر زید اپنی جگہ خدا سے دعا کرے اور بکر اپنی جگہ ۔ تو پھر مقدمہ کا فیصلہ کس کے حق میں ہو گا؟ خدا کس کی دعا قبول کرے گا اور کس کی رد کرے گا؟
یہ اور اس قسم کے اور بہت سے شکوک و خدشات ہیں جو دعا کے اس مفہوم سے پیدا ہوتے ہیں اور جن کے حل کرنے کے لیے مذہب*(مذہب سے مراد انسانوں کا خود ساختہ مسلک ہے ۔ دین خدا کی طرف سے ملتا ہے )۔ اور فلسفہ صدیوں سے (ناکام) کوششوں میں مصروف ہے۔ قرآن کریم نے بتایا کہ دعا کا یہ تصور غلط ہے اور اس دور کا پیدا کردہ جب ذہن انسانی اپنے عہد طفولیت میں تھا اور کائنات میں قانون اسباب (Law of Causality) کے تصور سے نا آشنا تھا۔ اس نے بتایا کہ۔
(1)کائنات میں ہر شے خدا کے لگے بندھے قانون کے مطابق سر گرم عمل ہے۔ اور خدا اپنے قانون میں کبھی تبدیلی نہیں کرتا۔ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا [33: 62]۔" تو قانون خداوندی میں کوئی تبدیلی نہیں پائے گا"۔
(2) انسانی دنیا میں بھی خدا ہی کا قانون کار فرما ہے۔ جو شخص اس قانون کے مطابق جس قدر کوشش کرے گا اسی قدر وہ کامیاب ہو گا۔ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى ۔ وَاَنَّ سَعْيَهٗ سَوْفَ يُرٰى [53: 39 - 40]" انسان کے لیے اس کے سوا کچھ نہیں جس کی وہ کوشش کرے۔ اور اس کی کوشش کا نتیجہ بلاتاخیر سامنے آجائے گا"۔
اس کے ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہہ دیا کہ جو شخص خدا کے قانون کے مطابق کوشش نہیں کرتا اور محض دعا مانگنے سے سمجھتا ہے کہ مقصود حاصل ہو جائے گا،اس کا نہ تو خدا کے متعلق تصور صحیح ہے اور نہ ہی اسے کبھی کامیابی ہو سکتی ہے۔ سورۃ رعد میں ہے لَهُ دَعْوَۃُ الْحَقِّ۔ انسان کی جو دعوت تعمیری نتائج پیدا کر سکتی ہے۔جو حق پر مبنی قرار پا سکتی ہے وہ وہی دعوت ہے جو خدا کے لیے (یعنی اس کے قانو ن کے مطابق) ہو۔ وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَئْیٍ۔ اور جو لوگ خدا کے علاوہ اوروں سے اپنی طلب وابستہ کرتے ہیں۔ یعنی چاہتے ہیں کہ خدا کے قانون کو چھوڑ کر، اپنی تو ہم پرستیوں کے زور پر کامیاب ہو جائیں،تو وہ غلطی پر ہیں۔ ان کی یہ خود ساختہ قوتیں ان کی کوئی مانگ پوری نہیں کر سکیں گی۔ ایسے لوگوں کی مثال کَبَاسِطِ کَفَّیْهِ اِلَی الْمَاءِ لِیَبْلُغَ فَاہُ وَمَا هُوَ بِبَالِغِهٖ۔ ہے، یعنی جیسے کوئی شخص (دریا کے کنارے) اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا کر بیٹھا رہے (اور دعا کرتا رہے کہ پانی اس کے منہ میں آجائے تو) اس طرح پانی اس کے منہ تک کبھی نہیں پہنچ سکتا۔ لہٰذا، وَمَا دُعَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ [13: 14]۔ جو لوگ خدا کے قانون سے انکار کرتے ہیں ان کی دعا کبھی نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا…[13: 15]۔ کائنات کی ہر شے، طوعاً و کرهاً ، خدا کے قانون کے مطابق سرگرم عمل ہے۔ سو جب ساری کائنات کا سلسلہ خدا کے قانون کے مطابق چل رہا ہے، تو انسان اس سے مستثنیٰ کس طرح ہو سکتا ہے؟
لہٰذا، قرآن کریم کی رو سے "خدا سے دعا" کے معنی ہیں خدا کے قانون سے مدد چاہنا۔ یعنی اس کی اطاعت سے اپنی کوششوں میں صحیح نتائج مرتب کرانا۔ اس حقیقت کو قرآن کریم نے متعدد مقامات پر واضح کر دیا ہے۔ مثلاً سورۃ المومن میں ہے وَقَالَ رَ بُّکُمْ ادْعَوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ تمہارا نشوونما دینے والا کہتا ہے کہ تم مجھے پکارو۔ میں تمہاری پکار کا جواب دونگا (اس کا مفہوم ذرا آگے چل کر بیان کیا جائے گا) اس کے بعد ہے۔ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ [40: 60]۔ یقینا جو لوگ میری محکومیت اختیار کرنے سے سر کشی برتتے ہیں، وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوتے ہیں۔ آیت کے دونوں ٹکڑوں کے ملانے سے بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ "خدا کو پکارنے" سے مراد اس کے احکام و قوانین کی محکومیت اختیار کرنا ہے۔ اور خدا کی طرف سے اس پکار کا جواب ملنے سے مراد انسان کی سعی و کاوش کا ثمر بار ہونا۔ دوسرے مقام پر اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ اِنَّمَا يُؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ [32: 15]۔ ہمارے احکام پر ایمان لانے والے وہی لوگ ہیں کہ جب ان کے سامنے وہ احکام پیش کئے جاتے ہیں تو وہ سر تسلیم خم کر دیتے ہیں اور اپنے نشوو نما دینے والے (کے پروگرام کو) درخور حمد و ستائش بنانے کے لیے سرگرم عمل رہتے ہیں۔ اور وہ ان احکام سے سر تابی نہیں کرتے۔ تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ ۔ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ [32: 15- 16]۔ وہ ان احکام کی تعمیل میں اس طرح سر گرم عمل رہتے ہیں کہ نیند تک کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ راتوں کو بھی جاگتے ہیں۔ اور اس طرح اپنے رب کو دفع مضرت اور جلب منفعت کے لیے پکارتے ہیں۔ کیونکہ انہیں علم ہوتا ہے کہ ان احکام کی تعمیل سے کیسے عمدہ نتائج مرتب ہوں گے اور ان کی خلاف ورزی سے کس قدر تباہیاں آئیں گی، جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہوتاہے وہ اسے (نوع انسانی کی بہبود کے لیے) کھلا رکھتے ہیں۔ سورۃ اَ لْمُؤ مِن میں ہے فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ ....[40: 65]خدا کو پکارو تو اس طرح کہ فرماں پذیری کے ہر گوشے کو خالِصًة اُسی کے لیے وقف اور مختص کر دو۔ سورۃ شوریٰ میں ہے وَيَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ …[42: 26]۔" وہ ان کی پکار کا جواب دیتا ہے جو اس کے قوانین کی صداقت پر یقین رکھتے ہیں۔ اور اس کے مطابق صلاحیت بخش کام کرتے ہیں"۔ یہاں سے بھی واضح ہے کہ "پکار اور اس کے جواب" سے مفہوم کیا ہے۔ سورۃ اعراف میں ہے اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً ۭاِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ [7: 55]۔" تم اپنے نشوونما دینے والے کو دل کے پورے جھکاؤ اور سکون سے پکارو۔ اس طرح کہ یہ پکار تمہارے دل کی گہرائیوں سے نکلے۔ یاد رکھو! جو لوگ اس کے قانون سے سرکشی برتتے ہیں اور حد سے تجاوز کر جاتے ہیں، وہ انہیں کبھی پسند نہیں کرتا"۔ اس سے بھی واضح ہے کہ "خدا کو پکارنے" سے مراد اس کے احکام کی اطاعت ہے۔ اس سے اگلی آیت نے اسی مفہوم کی تشریح کر دی ہے جہاں کہا ہے ۔ وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَادْعُوْهُ خَوْفًا وَّطَمَعًا۔ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ [7: 56 - 57]۔ یعنی تم معاشرہ میں ہمواری پیدا ہو جانے کے بعد ناہمواریاں مت پیدا کرو۔ اور خدا کو دفع مضرت اور جلب منفعت کے لیے پکارو۔ یاد رکھو ! جو لوگ حسن کارانہ انداز سے معاشرہ کا توازن قائم رکھتے ہیں، خدا کی رحمت ان سے بہت قریب ہوتی ہے"۔
یہاں "خدا کی رحمت" کو قریب کہا ہے۔ سورۃ بقرہ میں خود خدا کے متعلق کہا ہے کہ وہ قریب ہے۔وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ ۔ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ [2: 186] "اور جب میرے بندے تجھ سے میری بابت پوچھیں تو ان سے کہو کہ میں (کہیں دور نہیں ہوں۔ ان سے بہت) قریب ہوں۔ (ان کی رگِ جان سے بھی زیادہ قریب۔50: 16)۔ میں ہر پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے"۔ اس کے بعد ہے۔ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَلْيُؤْمِنُوْابِيْ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ [2: 186]" پس انہیں چاہیے کہ میری فرمانبرداری کریں اور میرے قوانین کی صداقت پر یقین رکھیں۔ تاکہ یہ اپنی منزلِ مقصود تک پہنچنے کا راستہ پالیں"۔
اس سے واضح ہے کہ خدا کو پکارنے (دعا) سے مراد اس کے احکام کی اطاعت ہے۔ اور دعا کا جواب دینے سے مفہوم اس اطاعت پذیری کے نتائج مرتب ہونا۔
سورۃ نمل میں پہلے کائناتی نظام کے مختلف گوشوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ وہاں کس طرح ہر بات خدا کے قانون کے مطابق ہوتی ہے۔ اس کے بعد،اس جماعت مومنین کو مخاطب کیا گیا ہے جو اپنے نظام کے ابتدائی مراحل میں سخت مصیبتوں اور پریشانیوں سے گزر رہی تھی اور قدم قدم پر پکار رہی تھی کہ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ [2: 214]۔ خدا کی نصرت کب آئے گی؟ ان سے کہا کہ اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوْۗءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَـفَاۗءَ الْاَرْضِ …[27: 62] (خداکے علاوہ) وہ کون ہے جو (تمہارے) قلب مضطر کی پکار کا جواب دیتا ہے اور تمہاری پریشانیوں اور مشکلات کو دور کر کے تمہیں استخلاف فی الارض عطا کر سکتا ہے! لیکن یہ استخلاف فی الارض، تمہارے اعمال کے نتیجہ میں مل سکے گا [24: 55]۔ اس لیے تم گھبراؤ نہیں۔ خدا کے قانون کے مطابق عمل کرتے جاؤ۔ وہ تمہاری بے کسی اور بے چارگی کو غلبہ و تسلط سے تبدیل کر دے گا۔ اگر تم اس راستے پر چلتے رہے تو ہماری کائناتی قوتیں، ان مخالفین کی ضروررسانیوں سے تمہاری حفاظت طلب کرتی رہیں گی [40: 7]۔ جماعت مومنین تو ایک طرف،خود حضرات انبیاء کرام ؐسے بھی یہی کہا گیا۔ مثلاً سورۃ یونس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصہ کو دیکھئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام فرعون کا مقابلہ کرنے کے لیے دعائیں مانگتے ہیں۔ اس کے جواب میں ان سے کہا جاتا ہے۔ قَدْ اُجِيْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَــقِيْمَا[10: 89]۔تم دونوں کی" دعاء قبول ہو گئی ہے"۔ بس اب تم اپنے پروگرام پر پوری پوری استقامت سے کار بندرہو۔ ظاہر ہے کہ اگر دعاء قبول ہو جانے کا مطلب یہ ہوتا کہ جو کچھ تم نے مانگا ہے وہ تمہیں دیدیا گیا ہے (یا وہ تمہیں مل جائے گا) تو اس کے بعد اس کے لیے کسی کوشش کی ضرورت نہ تھی۔ لیکن یہاں کہا یہ گیا ہے کہ تمہاری دعا قبول ہو گئی ہے۔ لہٰذا اب تم نہایت استقامت سے اس پروگرام پر کار بند رہو۔ اس سے واضح ہے کہ جو کچھ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام سے کہا گیا تھا وہ فقط اتنا ہی تھا کہ تمہاری یہ آرزوئیں ہمارے قانون کے مطابق ہیں لہٰذا تم ان کے حصول میں نہایت مستقل مزاجی سے کوشش کرو۔ تم ضرور کامیاب ہو جاؤ گے۔
تصریحات بالا سے یہ حقیقت واضح ہے کہ قرآن کریم کی رو سے خدا سے دعا کرنے کے معنی اس کے احکام و قوانین کی اطاعت کرنا ہیں۔ اسی "دعا" کا حکم رسول اللهؐ کو دیا گیا تھا۔ ۉقُلْ اِنَّمَآ اَدْعُوْا رَبِّيْ وَلَآ اُشْرِكُ بِهٖٓ اَحَدًا[72: 20]۔ ان سے کہہ دو کہ میں صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس میں کسی اور کو اس کے ساتھ شریک نہیں کرتا۔ یعنی اس کی حاکمیت میں کسی اور کو شریک نہیں کرتا[18: 26]۔
"دعا" کے اس قرآنی مفہوم کے بعد ان شکوک و خدشات کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی جن کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔
اب ذرا آگے بڑھیے۔ جن باتوں کو ہم اپنی اصطلاح میں "دعا" کہتے ہیں، قرآن کریم میں وہ بھی ہیں۔ مثلاً رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ [3: 147]۔ "اے ہمارے نشوونما دینے والے! تو ہماری کوتاہیوں، اور معاملات میں حد سے بڑھ جانے کے مضر نتائج سے ہماری حفاظت کر۔ ہمارے قدموں کو استقامت عطا فرما اور ہمیں قوم کفار پر کامیابی عطا کر دے"۔ یعنی وہ دعائیں جن میں انسان اپنی کسی آرزو کے بر آنے کی درخواست کرتا ہے۔ یہ دعائیں درحقیقت انسان کی آرزو کی شدت کا مظاہرہ ہوتی ہیں۔ اس شدت آرزو سے انسان کی اپنی ذات میں ایسا تغیر واقع ہوتا ہے جس سے اس کی خفیہ قوتیں بیدار ہوجاتی ہیں اور مضمر صلاحیتیں بروئے کار آجاتی ہیں۔ ان کی وجہ سے اس کا عزم راسخ اور ہمت بلند ہو جاتی ہے اور وہ موانعات کا مقابلہ کرنے اور شدائد پر غلبہ پا لینے کے قابل ہو جاتا ہے۔ (الدَّاعِیَةُ اور اَلدَّوَاعِیْ کے جو معنی شروع میں دیے گئے ہیں۔ ان پر غور کیجئے) یعنی سب سے پہلے تو یہ کہ انسان وہی کچھ چاہے جو قانون خداوندی کے مطابق ہو۔ اور پھر اس مقصد کے حصول کے لیے آرزو میں شدت پیدا کرے۔ اس سے اس کے اندر ایسی انقلابی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جس کے نتائج حیرت انگیز ہوتے ہیں (واضح رہے کہ قرآن کریم نے یہ بھی کہا ہے کہ تمہاری ہر آرزو، قانون خداوندی کے مطابق ہونی چاہیے، ورنہ تم وہ کچھ طلب کرنے لگ جاؤ گے جو تمہارے لیے درحقیقت مضر ہو گا۔17: 11)۔
اس حقیقت کو علامہ اقبال ؒ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ۔
تری دعا سے قضا تو بدل نہیں سکتی
مگر ہے اس سے یہ ممکن کہ تو بدل جائے
کہا جا سکتا ہے کہ اگر انسان اپنے کسی مقصد کے حصول کے لیے اپنے اندر ویسے ہی شدت آرزو پیدا کر لے تو اس سے بھی اس کی قوتیں بیدار ہو جاتی ہیں۔ پھر اس میں اور خدا سے دعا کرنے میں کیا فرق ہے؟ یہ ٹھیک ہے کہ اس طرح بھی انسان کی قوتیں بیدار ہو جاتی ہیں لیکن مقصد صرف قوتوں کی بیداری نہیں۔ سب سے پہلی چیز خود مقصد کا تعین ہے۔ یعنی وہ مقصد ہے کیا جس کے حصول کے لیے آرزو کی جا رہی ہے۔ اور وہ ہے کیسا؟۔ پھر اس کے حصول کے لیے طریقے کیا کیا اختیار کیے جائیں گے۔ اور اس تمام سعی و کاوش کے ماحصل کو کس مصرف میں لایا جائے گا۔ ایک مرد مومن (قرآنی انسان) ان تمام امور کا فیصلہ خدا کے احکام کی روشنی میں کرتا ہے اس لیے وہ ، پہلے قدم سے آخری قدم تک، خدا کو اپنے سامنے رکھتا ہے۔ اس کی طلب و آرزو کی شدت بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہوتی ہے اس لیے وہ اس کے لیے بھی خدا ہی کو پکارتا ہے۔ خدا کی طرف سے سب کچھ اس کے قانون کے مطابق ہوتا ہے۔ حتٰی کہ دعا کے نتیجہ میں انسان کی خفیہ قوتوں کی بیداری بھی اس کے قانون ہی کے مطابق ہوتی ہے۔ علاوہ بریں، ایک اور بھی نقطہ ہے جس کا سمجھ لینا ضروری ہے۔ خدا نے انسانی ذات میں ایسی صلاحیت دے رکھی ہے کہ وہ مناسب نشوونما سے اپنے اندر (علیٰ حِدبشریت) ان صفات کو اجاگر کرتی جائے جنہیں (لامحدود طور پر) صفات خداوندی یا الاسماء الحسنیٰ کہا جاتا ہے۔ اس نقطہ نگاہ سے خدا کی ذات (یعنی ان صفات حسنیٰ کی حامل ذات) انسانی ذات کی نشوونما کے لیے معیار (Standard)بن جاتی ہے۔ انسان کا اپنی شدت آرزو میں خدا کو پکارنے سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے اندر ان صفات خداوندی کو اجاگر کرنا چاہتا ہے جن سے مقصد پیش نظر میں کامیابی ہو جائے۔ یہ ہے فرق۔ "خدا سے دعا مانگنے" اور اپنے طور پر شدت آرزو پیدا کرنے میں۔
(دعا کی اجابت کے لیے عنوان ج ۔ و ۔ ب بھی دیکھئے)۔
اب رہیں حضرات انبیاء کرام علیہ السلام کی وہ ذاتی دعائیں جن کا ذکر قرآن میں ہے۔ سو نبوت کا معاملہ عام انسانی معاملات سے بالکل الگ ہے۔ اس کے متعلق ہم نہ کچھ سمجھ سکتے ہیں نہ سمجھا سکتے ہیں۔ ہم ان کے لائے ہوئے پیغام کو سمجھتے ہیں اور اسی کی اطاعت ہمارا فریضہ ہے۔ باقی رہا ان کی دعاؤں سے یہ نتیجہ نکالنا کہ جس طرح خدا ان کی دعا کے جواب میں ان سے ہم کلام ہوتا تھا، اسی طرح دیگر (غیر از انبیاء) انسانوں سے بھی ہم کلام ہو سکتا ہے۔ تو یہ چیز وحی اور نبوت کے قرآنی تصور کے یکسر خلاف ہے۔ خدا، حضرات انبیاء کرام علیہ السلام کے علاوہ کسی انسان سے ہمکلام نہیں ہوتا۔ اور نبی اکرم ؐکے بعد ایسا سمجھنا ختم نبوت کی مہر کو توڑنا ہے۔
نہ ہی یہ عقیدہ صحیح ہے کہ خدا ہماری دعا کو نہیں سنتا اس لیے "خدا کے کسی مقرب" سے درخواست کی جائے کہ وہ ہمارے لیے خدا سے دعا کرے۔ قرآن کی رو سے خدا اور بندے کے درمیان کوئی قوت حائل نہیں ہو سکتی۔ ایسا سمجھنا شرک ہے۔ "خدا تک پہنچنے" یا اس تک اپنی آواز پہنچانے کے لیے کسی ذریعے اور واسطے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہر انسان، اس کے قوانین کے اتباع سے" اس تک پہنچ سکتا ہے" اور اپنی آواز اس تک پہنچا سکتا ہے۔ (وسیلہ کے قرآنی مفہوم کے لیے متعلقہ عنوان دیکھئے) اور اس کے قوانین کا اتباع ،قرآنی معاشرہ کے اندر رہ کر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے جو دعائیں مومنین کے لیے بتائی ہیں وہ عام طور پر اجتماعی ہیں۔مثلاً 1: 5 -7 و 2 :201 و 2 : 286 و 3 :7 و 3 : 146 و 3 :192)۔
سورۃ بقرہ کی جو آیت اوپر درج کی گئی ہے۔ یعنی وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ ۔[2: 186]۔ "جب تجھ سے میرے بندے میرے متعلق پوچھیں تو (ان سے کہہ دو کہ) میں قریب ہوں"۔ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ ۔[50: 16] " میں انسان سے اس کی رگ جان سے بھی قریب ہوں"۔ تو ان میں ضمناً خدا کے موجود فی الکائنات (Immanence) اور خارج از کائنات (Transcendence) کی طرف بھی اشارہ موجود ہے۔ وہ ہر انسان سے، اس کی رگ جان سے بھی قریب ہے۔ تو اس سے ظاہر ہے کہ خدا کائنات میں ہر جگہ موجود ہے۔ لیکن اس طرح موجود نہیں جس طرح کوئی چیز کسی خاص مقام میں مقید ہوتی ہے۔ چونکہ ہمارے حواس کسی ایسی شے کا تصور نہیں کر سکتے جو فضا (Space) کے اندر مقید نہ ہو اس لیے ہم اسے سمجھ ہی نہیں سکتے کہ خدا، اس کائنات میں، بغیر جگہ (Space)گھیرے کس طرح موجود ہے۔ اسی لیے قرآن کریم نے کہہ دیا ہے کہ لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۔وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ[6: 103]۔ انسانی نگاہیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں۔ لیکن وہ انسانی نگاہوں کا ادراک و احاطہ کئے ہوئے ہے۔ لیکن اس کے قانون کا ہم ادراک بھی کر سکتے ہیں اور نتائج سے اس کا مشاہدہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے ہمارا تعلق خدا کے قانون سے بتایا ہے۔ خود خدا کی ذات سے نہیں۔ دُعَا (پکارنے) کا تعلق بھی خدا کے قانون سے ہے۔ ہم اس کے قانون کو آواز دیتے ہیں اور جب ہم اس کے مطابق عمل کرتے ہیں تو وہ ان اعمال کے مشہود نتائج کو سامنے لا کر ہماری پکار کا جواب دیتا ہے۔
باقی رہا خدا کا علم، سو جس چیز کو ہم "ماضی۔ حال۔ مستقبل" کہتے ہیں، علم خداوندی کی رو سے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ خدا کے سامنے ماضی، حال اور مستقبل سب بیک وقت (Eternal nowکی شکل میں) موجود ہوتے ہیں۔ یعنی اسے ہونے والے واقعات کا اس طرح علم ہوتا ہے جیسے وہ سامنے اس وقت ہو رہے ہوں۔ لیکن اس چیز کا ہمارے اس اختیار و ارادے پر کچھ اثر نہیں پڑتا جو ہمیں خدا نے عطا کیا ہے۔ نہ ہی اس بات پر کوئی اثر پڑتا ہے کہ ہمارے لئے جو کچھ ہوتا ہے وہ ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ سب کچھ خدا کے سامنے ہو رہا ہوتا ہے (اسے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے) لیکن وہ ہمارے اختیار و ارادہ کو سلب نہیں کرتا۔ ہم جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔ اور جو کچھ کرتے ہیں اس کا نتیجہ بھگتتے ہیں۔ اگر ہم خدا کے قانون کے مطابق کرتے ہیں تو اس کا نتیجہ خوشگوار ہوتا ہے۔ اس کے خلاف کرتے ہیں تو نقصان اٹھاتے ہیں۔ کسی میں اس کی طاقت نہیں کہ خدا کے قانون کے خلاف کرے اور اس کا نتیجہ خوشگوار مرتب کرے۔ خدا کے قانون کے مطابق قدم اٹھانا، خدا کو پکارنا یا دعا کرنا ہے۔ اور اس کا خوشگوار نتیجہ مل جانا، دعا کا قبول ہو جانا۔
 ·  Translate
1
Add a comment...
In their circles
2,992 people
Have them in circles
3,512 people
Samina Khan's profile photo
Basit Ijaz's profile photo
attiq tahir's profile photo
New Look Printers's profile photo
Javid iqbal's profile photo
Sasha Lav's profile photo
Asif Iqbal's profile photo
mhasann sefat's profile photo
Wasiullah Wasiullàh's profile photo

adil mushtaq

Shared publicly  - 
 
Kop 0ñ. in 9ko
 
Facebook is planning a dedicated space for videos.

Of course, rumors have been flying around about a YouTube competitor for ages now, particularly given Facebook has been taking steps like adding dedicated video tabs for Pages.

#YouTube #FacebookMarketing #FB #VideoMarketing  
View original post
1
Add a comment...
People
In their circles
2,992 people
Have them in circles
3,512 people
Samina Khan's profile photo
Basit Ijaz's profile photo
attiq tahir's profile photo
New Look Printers's profile photo
Javid iqbal's profile photo
Sasha Lav's profile photo
Asif Iqbal's profile photo
mhasann sefat's profile photo
Wasiullah Wasiullàh's profile photo
Links