Profile cover photo
Profile photo
M Bilal M
2,619 followers
2,619 followers
About
Posts

Post has attachment
سیروسیاحت کے لئے بہترین سمارٹ فون ایپس
تحریر :- ایم بلال ایم
آج کے دور میں سیر و سیاحت اور سفر کے لئے جہاں دیگر تیاریاں ہوتی ہیں، وہیں پر کچھ سمارٹ فون ایپس(Apps) بھی ضروری ہیں، جو کہ سفر کے دوران بہت مددگار ہوتی ہیں اور ان سے کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ ان ایپس کی مدد سے مفت میں موسم اور راستوں کی معلومات، ہوٹل کی تلاش، زمین پر اپنا مقام اور اس کی نشاندہی، رفتار، سمتیں اور سطح سمندر سے اپنی بلندی وغیرہ معلوم ہوتی ہے۔ اور تو اور اپنے سفر کا مکمل ٹریک بھی بن جاتا ہے اور آپ کے اپنے آن لائن گھر بیٹھے دیکھ سکتے ہیں کہ آپ اس وقت کدھر ہیں یا کس سمت سفر کر رہے ہیں۔ سب سے پہلی زبردست ایپ کا نام اور طریقہ استعمال یہ ہے کہ←مکمل تحریر اس لنک پر پڑھیں↓↓↓
http://www.mbilalm.com/blog/best-smartphone-apps-for-travel-and-tourism/
Add a comment...

Post has attachment
ہرن مینار میں انارکلی
تحریر و تصاویر :- ایم بلال ایم
جو سوتے ہیں، وہ کھوتے ہیں اور آج کل ”کھوتے“ کو تو لوگ کھا جاتے ہیں۔ یہ خیال آتے ہی فوراً بستر چھوڑا، تیاری کی، فوٹوگرافی کے لئے کیمرا رکھا اور انارکلی کی تلاش میں ہرن مینار چل دیا۔ یہ مینار مغل بادشاہ جہانگیر نے بنوایا تھا۔ وہی جہانگیر جو پہلے شہزادہ سلیم عرف شیخو ہوا کرتا تھا اور جس کی چکربازیوں کے چکر میں بیچاری انارکلی کو زندہ دیوار میں چنوا دیا گیا اور بعد میں خود جناب ”نورالدین“ بن بیٹھے۔ خیر سلیم کو چھوڑو اور انارکلی کی تلاش میں ہرن مینار کا چکر لگاؤ، تالاب میں ڈبکیاں نہ لگاؤ، بس بارہ دری میں چین کی بنسری بجاؤ اور اگر طبیعت زیادہ خراب ہو تو منظرباز کی طرح ایک انارکلی نہیں بلکہ کئی انارکلیوں سے←مکمل تحریر اور تصاویر اس لنک پر دیکھیں↓↓↓
http://www.mbilalm.com/blog/anarkali-in-hiran-minar/
Add a comment...

Post has attachment
چناب بادشاہ کا نیا راستہ اور شہباز پور پُل
تصویر و تحریر :- ایم بلال ایم
لمبے انتظار کے بعد ایک دن دریائے چناب پر پُل بننا شروع ہوا۔ پل کے حفاظتی بند بنا کر جب کمپنی پل بنانے کے لئے دریا میں اتری تو حکومت بدل گئی۔ درخت کاٹ کر سیمنٹ سریا اُگانے کی قائل حکومت نے آتے ہی اس منصوبے کو منسوخ کر دیا۔ پل کا جو کچھ بنا ہوا تھا وہ ویسا ہی پڑا رہا اور من موجی دریا اسے آہستہ آہستہ بہا لے گیا۔ منصوبے کی فائل سردخانے میں پڑی رہی اور پھر ایک دن ”شریفِ لاہور“ کی میز پر پہنچی۔ یوں دوسری دفعہ اپنی نوعیت کا منفرد پل خشکی پر بننا شروع ہوا۔ بند باندھ کر دریا کو بند کر دیا گیا۔ پانی وسیع رقبے پر پھیل گیا۔ گندم کی تیار فصل برباد ہو گئی۔ اب اگر ہم ڈوبے ہیں تو صنم←مکمل تحریر اس لنک پر پڑھیں↓↓↓
http://www.mbilalm.com/blog/chenab-river-new-route-and-shahbazpur-bridge/
Add a comment...

Post has attachment
پردے کے پیچھے کیا ہے؟
چلیں! آج منظرباز کی ذات کے حوالے سے پردے کے پیچھے جھانکتے ہیں۔ دوستو! سوشل میڈیا پر یہ جو ہنستا کھیلتا اور کئی باتوں سے بے نیاز سا نظر آتا ہے، درحقیقت پسِ پردہ اس کی زندگی میں بھی کئی مسائل اور اُتار چڑھاؤ ہیں۔ لیکن لکھنا پڑھنا، سیروسیاحت اور فوٹوگرافی وغیرہ جیسے مشاغل نے اسے کئی دکھوں سے بچا رکھا ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ اندر ہی اندر درد سہتا، آنسو پیتا مگر زندگی جیتا ہے اور اس جینے کے لئے سفر کرنا، پہاڑ چڑھنا، بہروپ بنانا، تاک لگانا اور خاک ہونا پڑتا ہے۔ جی ہاں! خاک ہونا پڑتا ہے، کیونکہ ہر خوشی کی کوئی نہ کوئی قیمت ہوتی ہے۔ ویسے نوبت لہو اُگلنے تک آنے سے پہلے ہی منظرباز←مکمل تحریر اس لنک پر پڑھیں↓↓↓
http://www.mbilalm.com/blog/behind-the-scene/
Add a comment...

Post has attachment
فوٹوگرافر اللہ دا فقیر
فوٹوگرافی کے حوالے سے ایک منفرد اعزاز ہمارے شہر جلالپورجٹاں کے پاس ہے۔ دراصل قیامِ پاکستان سے پہلے کی بات ہے کہ جب شہرِ خوباں ارضِ جاناں میں ایک بچے کو فوٹوگرافی کا شوق ہوا۔ تب اُس نے 13روپے کا کیمرہ خریدا۔ وہ شوقیہ فوٹوگرافی کرتا اور اخبارات کو تصویریں بھیجتا۔ اللہ دا فقیر کہہ گیا ہے کہ ”بات پیسے کی نہیں، بات تو ذہنی سکون کی ہے“۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ سب کچھ لُٹ گیا اور غربت نے ناک میں دم کر دیا۔ فقیر کویت چلا گیا۔ ادھر سخت مزدوری کرتا اور روتا اور دعا کرتا کہ یااللہ فوٹوگرافی کے علاوہ کوئی کام مجھے آتا نہیں، بس تو ہی کوئی راستہ نکال۔ اور پھر رب نے ایسا رستہ نکالا کہ دنیا نے دیکھا←مکمل تحریر اس لنک پڑھیں↓↓↓
http://www.mbilalm.com/blog/allah-da-faqeer-photographer-azmat-sheikh/
Add a comment...

Post has attachment
ان سے ملئے! یہ ہیں چند ”نمونے“۔ ایک انٹرویو میں مجھ سے سوال ہوا ”کیا آپ ایک اچھے دوست ہیں؟“ میرا جواب تھا ”یہ تو پتہ نہیں، لیکن میرے دوست بہت اچھے ہیں“۔ بس جی! بعض دفعہ جواب دینے میں انسان سے غلطی ہو جاتی ہے۔ ویسے مانتا ہوں کہ جو میری حرکتیں ہیں ان سے دوسرے تنگ آ سکتے ہیں۔ مگر میرے دوست نہیں آتے اور مجھے برداشت کرتے ہیں، نمونے جو ہوئے۔ بس جی! موجیں لگی ہوئی ہیں، گھومتے پھرتے ہیں اور غم چھپائے بیٹھے ہیں۔ ورنہ وقت بدلتا ہے اور لوگ بدلتے ہیں۔ کوئی جیتا ہے، کوئی مرتا ہے۔ سدا وقت ایک سا نہیں رہتا۔ دکھ ہر بندے کی زندگی←مکمل تحریر اس لنک پر پڑھیں↓↓↓
http://www.mbilalm.com/blog/happiness-with-friends/
Add a comment...

Post has attachment
یہ تب کی بات ہے جب ہمیشہ کی طرح وطنِ عزیز تاریخ کے نازک ترین موڑ سے گزر رہا تھا اور انسانیت خطرے میں تھی۔ یہ بات ہے اکیسویں صدی کے بالغ ہونے کی یعنی جب وہ اٹھارہ سال کی ہو چکی تھی اور گاتی پھر رہی تھی ”سوہنیا… میں ہو گئی اٹھرہ سال کی“۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ وہ اتوار کا دن تھا، جب راجپوتوں کے سپوت نے اپنے دوستوں کی فوج کے ہمراہ شیرشاہ سوری کے قلعۂ روہتاس پر یلغار کر دی۔ فوج جیسے تیسے دریائے راوی، چناب اور جہلم عبور کر کے روہتاس پہنچی۔ وہاں انسانی روپ میں چھپے بھیڑیئے لڑکیاں تاڑ رہے تھے۔ قلعے میں ایک دوشیزہ نے ہماری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ←مکمل تحریر اس لنک پر پڑھیں↓↓↓
http://www.mbilalm.com/blog/rohtas-fort-visit-with-rana-usman-and-farrukh/
Add a comment...

Post has attachment
دو ماہ کم دو سال بعد بلاگ پر کوئی تحریر لکھی ہے۔ پہاڑ کھود کر اپنے تئیں تو خزانہ دریافت کرنے کی کوشش میں ہوں لیکن تحریر پڑھ کر آپ کو اندازہ ہو گا کہ واقعی کچھ حاصل ہو گا یا پھر ”کھودا پہاڑ نکلا چوہا“۔
بہرحال تحریر کا عنوان ہے ”منظرباز کے چار یار“ اور تحریر کہتی ہے کہ چناب کنارے والے نے محبوب نگری میں کہا تھا کہ سب تعبیریں اک خواب کیں… سب پنکھڑیاں اک گلاب کیں… سب کرنیں اک آفتاب کیں… جن میں… ہم کنارے چناب کے… ہم سپوت دوآب کے… ہم شہرِخوباں کے… ہم ارضِ جاناں کے۔ یوں تو ہم ایک زمانے کو دوست رکھتے ہیں لیکن ابھی ذکر ہے جنابِ شمس، مسٹر بمبوکاٹ اور محترم چندربھاگ کا… اور عکس ساز کا۔ یہ سب #منظرباز کے ہمراز ہیں۔ اب ایسا بھی نہیں کہ اشرف المخلوقات کو چھوڑ کر ان سے دوستی کر لی۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انسان کو دل کی بات کہتے ڈر لاگے ہے صاحب…←مکمل تحریر اس لنک پر پڑھیں↓↓↓
http://www.mbilalm.com/blog/four-friends-of-manzarbaz-shams-bamboo-cart-chandar-bhag-camera/
Add a comment...

Post has attachment
فوٹوگرافی میں ایکسپوژر - شٹر، اپرچر اور آئی ایس او
جاندار کی آنکھ ہو یا پھر کیمرے کی آنکھ، دونوں روشنی کی مدد سے چیزوں کو دیکھتی ہیں۔ جس طرح ضرورت سے کم یا زیادہ روشنی میں جاندار کی آنکھ کی پتلی پھیل یا سکڑ کر روشنی کی شدت کو قابو کرتے ہوئے پردۂ چشم پر مناسب عکس بناتی ہے۔ بالکل ایسے ہی کیمرے میں لینز کے سوراخ یعنی اپرچر کو بڑا یا چھوٹا کر کے مناسب عکس بنایا جاتا ہے۔ کیمرے میں اپرچر کے ساتھ ساتھ شٹر اور آئی ایس او سے بھی روشنی کی شدت یعنی ایکسپوژر کنٹرول کیا جاتا ہے۔
فوٹوگرافر بننے کے لئے ایکسپوژر، شٹر، اپرچر اور آئی ایس او کی تفصیلی سمجھ بہت ضروری ہے، کیونکہ فوٹوگرافی کی دنیا انہیں چیزوں کے گرد ہی گھومتی ہے۔ کیمرہ سیکھنے، اچھی فوٹوگرافی کرنے اور نئے لوگوں کی آسانی کے لئے اس تحریر میں←مکمل تحریر اس لنک پر پڑھیں↓
http://www.mbilalm.com/blog/exposure-in-photography-shutter-aperture-and-iso/

#photography , #photographer , #DigitalCamera , #DSLR , #Urdu , #فوٹوگرافی , #کیمرہ , #فوٹوگرافر , #کیمرے , #تصویرکشی
Add a comment...

Post has attachment
ڈیجیٹل کیمروں کی اقسام
بٹن دباؤ تصویر بناؤ، منظر تاڑو شٹر مارو، یہ کام مشہورِ زمانہ ”تاڑومارو“ کیمرے :-) یعنی پوائنٹ اینڈ شوٹ سے ہوتا ہے۔ جوشیلے کیمروں کی طرح ان کا شمار بھی چھوٹے کیمروں میں ہی ہوتا ہے۔ ان سے اوپر سپرزوم کیمروں کا نمبر آتا ہے اور پھر لینز تبدیل ہونے والے کیمرے سب سے اچھے ہوتے ہیں۔ ڈی ایس ایل آر کیمرے فوٹوگرافی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ اور ہر فن مولا ہیں اور ان کا شمار لینز تبدیل ہونے والے کیمروں میں ہوتا ہے۔
کیمرہ خریدنے سے پہلے اور پھر اچھی فوٹوگرافی کے لئے ضروری ہے کہ ڈیجیٹل کیمروں کی اقسام اور ان کے فنکشنز کی مکمل معلومات ہو۔ ابھی ہم انہیں باتوں کی تفصیل دیکھتے ہیں، جس سے کیمرہ خریدنے اور اچھی فوٹوگرافی کرنے←مکمل تحریر اس لنک پر پڑھیں↓
http://www.mbilalm.com/blog/types-of-digital-cameras/
Add a comment...
Wait while more posts are being loaded