Profile

Cover photo
Imran Khushaal Raja
Attends Iqra University
Lives in Islamabad
93 followers|242,629 views
AboutPostsPhotosYouTube

Stream

Imran Khushaal Raja

Shared publicly  - 
 
تیرے پہلو میں کیا رہا
دل پھر نہ میرا رہا

اک رہی بس تیری کمی
ورنہ یوں تو دامن بھرا رہا

ہاتھوں میں رہی چھونے کی طلب
آنکھوں میں تیرا نقش سا رہا

جو اترے نہ کبھی سر سے
نشہ تیرا ایسے چڑھا رہا

رہے ایسے اس جہاں میں کوئی
بیچ بتوں کے جیسے خدا رہا

عمران خوشحال راجہ
 ·  Translate
تیرے پہلو میں کیا رہا دل پھر نہ میرا رہا اک رہی بس تیری کمی ورنہ یوں تو دامن بھرا رہا ہاتھوں میں رہی چھونے کی طلب آنکھوں میں تیرا نقش سا رہا جو اترے نہ کبھی سر سے نشہ تیرا ایسے چڑھا رہا رہے ایسے ا…
1
Add a comment...

Imran Khushaal Raja

Shared publicly  - 
 
یکم مئی یومِ مزدور

میں گرمی میں اْبلتا کھولتا ایک بنک کے اے ٹی ایم پر رُکا جہاں مجھ سے پہلے دو شخص قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے جبکہ ایک شخص اے ٹی ایم مشین والے کیبن میں تھا۔ بنک بند ہونے کی وجہ سے پاس ہی بنک کے دروازے پر ایک مزدور جوتے اتارےاپنے اردگرد سےتھوڑا محتاط نیم دراز حالت میں بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے سائے میں پہنچتے ہی بے ساختہ کہا کہ گرمی آگئی ہے۔ لائن میں کھڑا اگلا شخض اب اندر جا چکا تھا جبکہ دوسرا شخص جو حا ل حُلیے سے خاصہ تونگر لگ رہا تھا مجھ سے مخاطب ہوا ۔اتنے میں اس کی باری بھی آ گئی۔ وہ یہ کہہ کر کہ’’گرمی ہزار بیماریوں کو ختم کرتی ہے‘‘، اندر گیا۔ کچھ ہی دیر میں نوٹوں کی گھڈی کے ساتھ باہر آیا اور میری طرف دیکھے بغیراپنی نئے ماڈل کی بڑی سی کار جس کے شیشے چڑھے تھےمیں بیٹھا اور چلا گیا۔میں مزدور کی طرف دیکھ رہا تھا اور وہ میری طرف۔ اور شایدہم دونوں کو پتا چل گیا تھا کہ اس کی کار میں اے سی مسلسل ٹھندک پہنچا رہا ہے۔

عمران خوشحال راجہ
 ·  Translate
میں گرمی میں اْبلتا کھولتا ایک بنک کے اے ٹی ایم پر رُکا جہاں مجھ سے پہلے دو شخص قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے جبکہ ایک شخص اے ٹی ایم مشین والے کیبن میں تھا۔ بنک بند ہونے کی وجہ سے پا…
1
Add a comment...

Imran Khushaal Raja

Shared publicly  - 
 
کل بہت راتوں کے بعد مزے کی نیند آئی پر صبح سویرے کسی نے وصّیؔ شاہ کو پوسٹ کر دیا۔ اور وہ بھی چلو ’’آنکھ کا کاجل ‘‘وغیرہ ہوتا تو خیر تھی مگر یہاں معمالہ اس سے بھی گھمبیر تھا۔ اس نظم کا عنوان تو نہیں یاد اور نہ ہی پوسٹ کرنےوالے نے لکھا پر اتنا بتاتا ہوں کہ یہ وہی نظم ہے جس میں وہ اپنی گرل فرینڈ یا بیوی کے ہوتے ہوئے اور پھر اس کے چلے جانے کے بعد اپنی زندگی کا فرق بتاتے ہیں۔’’ یعنی بیفور اور آفٹر ۔۔۔۔ مائی گرل فرینڈ یا بیوی یا جو بھی تھی‘‘۔ میں نے پوسٹ کرنے والے سے کہا کہ مجھے وصّیؔ شاہ کو ناپسند کرنے کی وجہ یاد دلانے کے لیے میں اس کا مشکور ہوں لیکن بھائی اگر گرل فرینڈ یا بیوی سے جوتے پولش کرواو گے توبیچاری نے بھاگنا ہی ہے۔ ہاں بہت ساری نہیں بھی بھاگتی ہیں شاید رسم و رواج، مذہب اور تقدس کی وجہ سے ۔پرجوتے پولش کروانا تو کسی لحاظ سے بھی مناسب نہیں نہ ہی مذہب اور تقدس کے لحاظ سے۔ کے ہے۔ آپ تبصرہ کریں ذرا؟
 
عمران خوشحال راجہ
 ·  Translate
کل بہت راتوں کے بعد مزے کی نیند آئی پر صبح سویرے کسی نے وصّیؔ شاہ کو پوسٹ کر دیا۔ اور وہ بھی چلو ’’آنکھ کا کاجل ‘‘وغیرہ ہوتا تو خیر تھی مگر یہاں معمالہ اس سے بھی گھمبیر تھا۔ اس نظم کا عنوان تو نہ…
1
Add a comment...

Imran Khushaal Raja

Shared publicly  - 
 
تجھ سے پہلے حالت نہیں تھی یہ
ذہن و دل کی صورت نہیں تھی یہ
 
اک جہدِ مسلسل سے جیتا ہے تجھے
تو ایسے ہی مل جاتی قسمت نہیں تھی یہ
 
ذرا ان کا تو سوچو جنھوں نے عمر بھر کی
اور پھر سمجھے کہ او ، محبت نہیں تھی یہ
 
ہجر میں پہلے یاد آتی تھی بس
ہجر میں پہلے وحشت نہیں تھی یہ
 
کیا ہو جو قصداً بہکنے کو پی کر ہم
مکر جائیں کہ نہیں نیت نہیں تھی یہ
**عمران خوشحال راجہ**
 ·  Translate
تجھ سے پہلے حالت نہیں تھی یہ ذہن و دل کی صورت نہیں تھی یہ اک جہدِ مسلسل سے جیتا ہے تجھے تو ایسے ہی مل جاتی قسمت نہیں تھی یہ ذرا ان کا تو سوچو جنھوں نے عمر بھر کی اور پھر سمجھے کہ او ،…
1
Add a comment...

Imran Khushaal Raja

Shared publicly  - 
 
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یہ ’’کچھ بھی نہیں ‘‘ یعنی نتھنگ کیا ہے؟ کیا یہ کوئی چیز ہے یا کوئی چیز نہیں ۔ اور اگر یہ کوئی چیز بھی نہیں ہے تو یہ ہے کیسے ؟ یعنی اس کا وجود کیونکر ہے؟ ہم اس کو لکھتے کیوں ہیں؟ ہم اس کو کہتے کیوں ہیں؟ یہ یقیناً کچھ نہ کچھ ہو گا۔ٹھیک؟ لیکن پھر اگر یہ کچھ نہ کچھ ہے تو یہ نتھنگ یعنی ’کچھ بھی نہیں‘ نہیں ہو سکتا۔
 
فلسفیوں نے سقراط سے قبل اس بارے سوال اٹھائے اور سقراط کے بہت بعد یعنی پچھلی صدی اور پھر موجودہ صدی تک یہ معمہ سلجھانے کی کوشش میں لگے رہے کہ کہ آخر ’کچھ بھی نہیں‘ یعنی ’نتھنگ ‘ ہے کیا۔ طبعیات اور ریاضی دانوں نے اس پر بہت بات کی اور بہت سارے اس نتیجے پر پہنچے کہ ’کچھ بھی نہیں‘ دراصل کچھ ہے ۔ ستاروں سے کہکشاوں کے بیچ میں خالی جگہ دراصل خالی نہیں یہ کسی مادے سے بھری ہوئی ہے۔ اور یہی معاملہ ایٹموں کے بیچ کی خالی جگہ کے ساتھ بھی درپیش ہے۔ لیکن کیا ایسا ممکن ہے کہ طبیعات اور ریاضی کی دنیا کی اس بحث کو ہم اپنی معاشرتی زندگی کی بحث بنا سکیں اور بات کر سکیں کہ’کچھ بھی نہیں‘ کی سماجی حثیت کیا ہے۔

آج کل پانامہ لیکس نے دنیا بھر کے درجنوں لوگوں کے نام بدعنوانی کی فہرستوں میں لکھ کرکھلبلی مچا رکھی ہے۔ کچھ نے ان فہرستوں کو (کچھ) مانتے ہوئے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے۔ کچھ نے کہا کہ یہ فہرستیں ’کچھ بھی نہیں ‘ ہیں۔ ہم نے ایسا ’کچھ بھی نہیں‘ کیا ۔ یہ سب ’کچھ بھی نہیں ‘ ہے۔ لحاظہ ہم بے قصور ہیں۔

ایک صورتِ حال کا تصور کیجئے آپ کو شک پڑتا ہے کہ آپ کا شریکِ حیات، دوست یا گرل فرینڈ بوائے فرینڈ آپ سے کچھ چھپا رہا ہے۔ آپ اس سے سوال پوچھتے ہیں کہ کیا ہے۔ تم ۔۔۔آپ۔۔۔ کیا چھپا ۔۔۔۔ رہے ہو۔۔۔ رہے ہیں؟ اور آگے سے کہتا ہے کہ ’کچھ بھی نہیں‘۔ یعنی نتھنگ۔

کیا ان دونوں صورتوں میں ’کچھ بھی نہیں ‘ واقعی کچھ بھی نہیں ہے یا کچھ ہے۔ کیا یہ مان لیا جائے کہ شریف خاندان بے گناہ ہے اور جیسا کہ مریم اور حسین اور پھر ان کے اباّ جان کہہ رہے ہیں کہ انھوں نے ’کچھ بھی غلط نہیں کیا‘ کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے کچھ نہ کچھ ضرور کیا ہے۔کیا یہ مان لیا جائے کہ آپ کے شریکِ حیات، گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ یا دوست نے آپ سے کچھ نہیں چھپا یا اور بقول اس کے ایسا واقعی ’کچھ بھی نہیں‘ ہے۔ تو سوال یہ کہ پھر شک نے کہا سے جنم لیا۔ اگر ’کچھ بھی نہیں‘ کچھ نہیں ہے تو کیا ’شک‘ ایک خیال کے طور پر عدم سے وجود میں آ سکتا ہے۔ یعنی کیایہ ایسی چیز ہو سکتا ہے جس کا تعلق ہمارے سننے ، دیکھنے اور محسوس کرنے سے نہ ہو۔کیا ایسا ممکن یہ کہ آپ نے کچھ بھی نہ سنا ہو اور کچھ بھی نہ دیکھا اور اور کچھ بھی نہ محسوس کیا ہو اور پھر بھی شک کر دیا ہو؟

افوہ کو اگر ہونے اور نہ ہونے کہ بیچ کی کوئی چیز سمجھا جائے تو یہ سمجھنا ممکن ہے کہ افوہ کہ لیے بھی کچھ نہ کچھ ہونا ضروری ہے۔ اور کسی بھی لیکس نے کسی بھی سازش کے ذریعے کسی کا نام بھی کسی فہرست میں ڈالا ہے تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ تو ضرور ہو گی۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ شریف خاندان واقعی بدعنوان ہواور جیسے یہ خود ہیں ان کی اولاد بھی ایسے ہی ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ چونکہ شریف خاندان پاکستان کا ’لہوا‘ دنیا جہاں میں منا رہا ہے تو یہ ایک عالمی سازش ہو کہ کہیں پاکستان باقی دنیا سے آگے نہ نکل جائے اس لیے اس کے وزیراعظم کو بدعنوان اور اس کی آل اولاد کو بدعنوان کہو تاکہ وہ جذبات میں آکر مستعفی ہو جائے اور پاکستان ساری عمر ایسے ہی گلتا سڑتا رہے اور کبھی بھی ترقی نہ کر سکے اور کبھی بھی دنیا میں اپنا ’لہوا‘ نہ منوا سکے۔ 

عمران خوشحال راجہ
 ·  Translate
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یہ ’’کچھ بھی نہیں ‘‘ یعنی نتھنگ کیا ہے؟ کیا یہ کوئی چیز ہے یا کوئی چیز نہیں ۔ اور اگر یہ کوئی چیز بھی نہیں ہے تو یہ ہے کیسے ؟ یعنی اس کا وجود کیونکر ہے؟ ہم اس کو لکھتے کیو…
1
Add a comment...

Imran Khushaal Raja

Shared publicly  - 
 
According to the Central Intelligence Agency (CIA) ISIL or ISIS once had 31,000 fighters in Iraq and Syria. From these, some 5,000 were believed to be young people of immigrant descent from European Union countries.  Belgium, in its counterterrorism measures like other European Union countries, has also made it difficult for the terrorists to move in and outside the country easily. It seems, that young people of immigrant descent which were previously fleeing to Iraq and Syria to join ISIL, have now started targeting their countries of residence because of these strict measures. So in a way the strategy of not letting these immigrants join ISIL is counterproductive and a dilemma. Because, if they join ISIL in Iraq and Syria they will become more powerful to defeat there and if they couldn’t join, they’ll carry attacks like these. This carnage poses a serious question; that what led to these attacks?
On Tuesday, terrorists killed at least 34 people in attacks on the Belgian capital of Brussels and responsibility was claimed by Islamic State of Iraq and the Levant (ISIL). According to the Centra…
1
Add a comment...
Have him in circles
93 people
Irfan Pitafi's profile photo
Shams Pervez's profile photo
Mubeen Arif's profile photo
Yasir Hameed's profile photo
Muhammad Babar's profile photo
shubha shamim's profile photo
Ummar Hussain's profile photo
Mehwish Saleem's profile photo
Wiki Wiki's profile photo

Imran Khushaal Raja

Shared publicly  - 
 
Well, I think what sustained the Taliban in Afghanistan is hostility between India and Pakistan, why would Pakistan want an Islamist religious regime in Afghanistan if it didn't have a problem with less religious or communist regimes. As this is a matter of fact that secular or less religious regimes in Afghanistan had better and close relations with India than Pakistan. Afghanistan also attacked Pakistan at least three different times to support and seek what it anticipated as Pashtunistan.  Pakistan needed the Taliban to secure its northern border and focus on its eastern boarder; with India. And as long as Pakistan feels threatened from India it would try to keep Afghanistan in hands. The Taliban will be replaced by someone else but Afghanistan couldn't get out of this mess unless and until it understand that only a neutral, neither pro-Pakistan nor pro-India, regime could help it. 
Religious seminaries have a long history but Taliban (students of the seminaries) emerged as an independent and separate political entity in mid 1990s. They ostensibly rose as a player in Afghan politics to fill the vacuum created by the dramatic decline of former mujahideen in the early 1990s but the Taliban movement bore a clear made-in-Pakistan mark on it for three reasons. First, almost 95 percent of them were trained in religious seminaries ...
1
Add a comment...

Imran Khushaal Raja

Shared publicly  - 
 
Contently is a great way to gather and highlight all your published content at one place. 
1
Add a comment...

Imran Khushaal Raja

Shared publicly  - 
 
آزاد کشمیر
الیکشن
2016

سرمایہ دارانہ جمہوریت جوپاکستان اور بھارت کے عوام کا ایک بھی بنیادی مسّلہ حل کرنے سے قاصر ہے کے ذریعے ان مسائل زدہ ممالک کےزیرِ انتظام کشمیر کے عوام کے مسائل کا حل تلاش کرنا دراصل تاریک کمرے میں کالی بلی ڈھونڈنے کےمترادف ہے۔

عمران خوشحال راجہ
 ·  Translate
سرمایہ دارانہ جمہوریت جوپاکستان اور بھارت کے عوام کا ایک بھی بنیادی مسّلہ حل کرنے سے قاصر ہے کے ذریعے ان مسائل زدہ ممالک کےزیرِ انتظام کشمیر کے عوام کے مسائل کا حل تلاش کرنا دراصل تاریک کمرے میں کا…
1
Add a comment...

Imran Khushaal Raja

Shared publicly  - 
 
Considering YPG a real resistance against ISIL it could be said that if Turkey keeps attacking the Kurds in Syria to defeat PKK and YPG it will strengthen ISIL which will be a defeat to NATO and Turkey itself. If Turkey does not attack YPG, which is very unlikely, then YPG would become more powerful and maybe the only real force against ISIL which means it could help PKK in seeking Kurdistan in Turkey in far future. For Turkey, there is no easy fix. If it keeps attacking YPG it might lose the NATO membership by annoying the US and EU-led forces in Syria. If it doesn’t it might lose a considerable territory.
According to the Global Peace Index report, Syria is the most dangerous country in the world and Turkey is the most dangerous country among the North Atlantic Treaty Organization (NATO) countries. …
1
Add a comment...

Imran Khushaal Raja

Shared publicly  - 
 
ملاّجینئرنگ : تخلیقی شہکار یادودھاری تلوار (عمران خوشحال راجہ)
گو بہت سارے لوگ اس خیال سے متفق نہیں ہیں کہ ملائیت کبھی منکسر بھی ہوتی ہے لیکن پاکستان کے تناظر میں یہ بات درست ہے کہ یہاں اس کی ابتدا نسبتاً پرامن اور بدرجہ کم متشدد انداز میں ہوئی۔جس کا ثبوت یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت یہاں صرف چھے مذہبی جماعتیں تھیں اور بہت عرصہ بعد تک بھی ان کی تعداد اتنی ہی رہی لیکن آج ان کی تعداد دو سو سے زیادہ ہے جن میں سے سوسے زیادہ مسلح جدو جہد کرنے والی قومی اور عالمی سطح کی دہشت گرد تنظیمیں ہیں۔ 
ایک زمانہ تھا جب مدرسوں کے بچے ہر روز روٹیاں اور سالن جمع کرنے گلی محلے کے ہر گھر جایا کرتے تھے۔ عموماً ان کے پاس ایک ہی بالٹی ہوتی تھی جس میں ہر طرح کا شوربا، ترکاری اور جو کچھ بھی کہیں سے ملتا تھا ڈلوا کر لے جاتے تھے۔ ذرا وقت بدلا تو مدرسوں کے اپنے لنگر چلنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ مولوی جو سماجی اور سیاسی طور پر موثر نہیں تھا مذہب کے ساتھ ساتھ سیاست اور معاشرت میں بھی نمایاں جگہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
پاکستان کی تاریخ میں چند ایک بڑے واقعات ایسے ہیں جنھوں نے نہ صرف مذہبی متشددین کی تعداد میں اضافہ کیا بلکہ ملائیت کو وہ طاقت دی ہے جس کا استعمال آپ آئے روز ملاحظہ کرتے ہیں۔ بانیِ پاکستان محمدعلی جناح سمیت دیگر کئی بظاہر سیکولر قائدین کے مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے ایسا ممکن تھا کہ ملائیت شروع دن سے ہی اس ملک پر قبضہ جما لے لیکن چونکہ تقسیمِ ہندوستان نے ملائیت کو بھی تقسیم کردیا تھا اس لیے ایسا کلی طور پر ممکن نہ ہو سکا ہاں البتہ جس قدر ممکن تھا اس نے پاکستان کے آئینی معاملات میں مداخلت کر کے اپنی من مرضی کے مقاصد حاصل کیے۔
بھارت کے ساتھ جنگیں ، مشرقی پاکستان کا الگ ہو جانا، پشتونستان اور گریٹر بلوچستان کی تحریکوں کا زور پکڑجانا اور افغانستان کا ان تحریکوں کو بڑھاوا دینے کی غرض سے پاکستان کی جنوبی سرحد پر متعدد بار حملہ آور ہونا ، یہ وہ تمام عوامل تھے جن کی وجہ سے پاکستان میں پہلی بار ملاّ جینئرنگ یعنی ایسی سوشل انجینئرنگ جس میں ریاستی پروپیگینڈا اور مذہب کو استعمال کرکہ صنعتی سطح پر مولوی پیدا کیئے جاتے ہیں، کی گئی۔ افغانستان میں داؤد خان کی حکومت جو کہ بھارت کی دوست سمجھی جاتی تھی کا دھرن تختہ کرنے پہلی بار داؤد مخالف پانچ ہزار مولویوں کی کھیپ اس وقت کے وزیرِاعظم ذولفقار علی بھٹو کی نگرانی میں تیار کی گی۔ اسی کھیپ میں مولوی گلبدین حکمتیار جو کہ بعد میں افغانستان کے وزیراعظم بھی بنا جیسے بہت ساروں کومسلح جدوجہد کی تربیت دی گئی۔
سرد جنگ کی وجہ سے افغانستان میں امریکی مداخت اس وقت عملی شکل اختیار کر گئی جب ستر کی دہائی کے آخری سالوں میں سویت یونین کے حمایتی نور محمد تراکی اور حفیظ اللہ آمین نے افغانستان کی حکومت کو گرادیا ۔ پاکستان سے تربیت پانے والی پہلی کھیپ کو امریکہ نے مکمل طور پر مدد کرتے ہوئے ردِانقلاب کا ٹاسک دیا۔یوں سویت اور امریکہ کی پراکسی وار کا آغاز ہوا جس کے لیے نئی کھیپ تیار کی گئی اور یہ سلسلہ چلتا گیا۔ 
صنعتی پیمانے پر کی جانے والی ملاّجینئرنگ کی ان کھیپوں میں سے اضافی اور کسی حد تک استعمال شدہ کھیپ کو ’سعودی اسلام‘ کی ترویج کاٹاسک ملاکیونکہ تبھی ’ایرانی اسلام‘ نے ایران میں انقلاب لاکر مشرقِ وسطہ میں سعودی عرب کی چوہدراہٹ کوشدید نقصان پہنچایاتھا۔ سو کراچی سے کشمیر تک ہر دو سنی مسجدوں کے مقابلے میں ایک وہابی مسجد تعمیر ہوئی۔ اور یوں ملائیت میں مسلکی رنگ گاڑا ہوتا گیا۔ اب پاکستان میں کئی رنگوں اور مسلکوں کے مولوی تھے پر سوال یہ پیدا ہوا کہ کس مسلک کی ملاّجینئرنگ زیادہ سودمند اور پائیدار ہوگی۔سو لبارٹری ٹیسٹ کہ بعد یہ پتا چلا کہ بریلوی کھیپ مطلوبہ نتائج نہیں دی سکی لحاظہ دیوبندی اور وہابی کھیپ کی پیداورا کو بڑھایا جائے۔ 
اسّی کی دہائی کے آخر تک سویت پسپائی اور اور انخلا کے بعد افغانستان مکمل طور پر ان لوگوں کے قبضے میں آگیا جو کسی نہ کسی طرح ملاّجینئرنگ کے عمل سے گزر ے تھے ۔ جنگ کے خاتمے کے بعدآر پار کے پشتون طالبان تو اقتدار سنبھالنے لگے لیکن پاکستان سے گئے پنجابی طالبان وطن واپس آ گئے۔ اسے اتفاق کہیں یا منصوبہ بندی ، جس سال سویت یونین نے جنگ ہاری اور افغانستان سے انخلا مکمل کیا اسی سال کشمیر ایک خانہ جنگی کی لپیٹ میں آگیا۔سرینگر کے گلی محلوں میں ہم کیا چاہتے ۔۔۔آزادی ۔ کے نعرے اور گولیوں کی آواز سنائی دینے لگی۔ کشمیر میں افغانستان سے لوٹے ہوئے غازیوں کی موجودگی کا احساس تب ہوا جب خود کشمیری قوم پرستوں کی لاشیں گرنے لگیں اور تحریک کا نعرہ کشمیر بنے گا خودمختار سے بدل کر کشمیر بنے گا پاکستان ہو گیا۔ 
نو ستمبر تک یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا۔ اب افغانستان میں پاکستان کی مرضی کی حکومت تھی اور بھارت پاکستان کی تخلیقی ملاّجینئرنگ کے ہاتھوں تنگ آکر آئے روز خون کے آنسو رو رہاتھا۔ مگر نو ستمبر نے بہت کچھ بدل دیا۔ امریکی دباؤ پر’’ وار آن ٹیرر‘‘ کاحصّہ بن کر پاکستان نے جیسے اپنے پاؤں نہیں سر پر کلہاڑی دے ماری۔کہا یہ جاتا ہے کہ اس کے بعد طالبان کی وہ حکومت جس کو پوری دنیا میں صرف پاکستان کی حمایت حاصل تھی پاکستان کی دشمن بن گئی۔ پر یہ آدھا سچ ہے۔ پورا سچ یہ ہے کہ کچھ لوگ دوست رہے کچھ دشمن بن گئے اور بہت ساروں کا آج دن تک پتا نہیں چل سکا کہ وہ دوست ہیں یا دشمن۔ کشمیر میں جہاد کرنے والوں کو جب مالی تنگی کا سامنا ہوا تو بہت سارے مشرف پر پھٹ پڑے کچھ نے نئے گروپ بنا لیے اور کچھ نے پہلے سے بنے ہوئے گروپوں کو جوئن کرلیا۔ اب یہ لوگ پاکستان میں غیر مذہبی، غیر مسلکی جنگ میں مصروفِ عمل ہیں اور لیکن بہت دفعہ اپنے ہی مذہب اور مسلک کے معصوموں کے گلے بھی کاٹ دیتے ہیں۔گویاملاّجینئرنگ تخلیقی شہکار سے کہی زیادہ دو دھاری تلوار جس نے ستر ہزار سے زیادہ سر قلم کر دیے۔ 

نوٹ: اگرچے بریلوی ملائیت عالمی سطح کے صنعتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہو سکی تاہم قومی سطح پر اس کے استعمال کی ایک جھلک آپ نے حال ہی میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں ملاحظہ کی ہوگی۔
 ·  Translate
گو بہت سارے لوگ اس خیال سے متفق نہیں ہیں کہ ملائیت کبھی منکسر بھی ہوتی ہے لیکن پاکستان کے تناظر میں یہ بات درست ہے کہ یہاں اس کی ابتدا نسبتاً پرامن اور بدرجہ کم متشدد انداز میں ہوئی۔جس کا ثبوت یہ ہ…
1
Add a comment...

Imran Khushaal Raja

Shared publicly  - 
 
First thing in this regard is, Trump is a lot of things. He might look stupid, arrogant and racist but he enjoys enough popularity that he can be the next president of the United States.  I ran a ‘similarity test’ and found that he is Trump Bhutto, Trump Bhai, Trump Khan and Trump-ul-Qadri. Confused.., wait a minute.
“I don’t have regrets. These were very, very bad protesters. These were bad dudes. They were rough, tough guys.” This was what Donald Trump told CNN’s Don Lemon when asked i…
1
Add a comment...
People
Have him in circles
93 people
Irfan Pitafi's profile photo
Shams Pervez's profile photo
Mubeen Arif's profile photo
Yasir Hameed's profile photo
Muhammad Babar's profile photo
shubha shamim's profile photo
Ummar Hussain's profile photo
Mehwish Saleem's profile photo
Wiki Wiki's profile photo
Work
Occupation
Founder www.kashmirica.wordpress.com
Skills
Activist + Blogger + Columnist + Dramatist + Entrepreneur + Founder-Kashmirica + Podcaster + Poet + Researcher + Writer + XYZ
Places
Map of the places this user has livedMap of the places this user has livedMap of the places this user has lived
Currently
Islamabad
Links
Story
Tagline
Activist + Blogger + Columnist + Dramatist + Entrepreneur + Founder-Kashmirica + Podcaster + Poet + Researcher + Writer + XYZ
Introduction

I am an Activist, who is a part of different social and political causes and campaigns, ranging from education and human rights to liberation and revolution. Some of my initiatives are Smile Slum School, a school for slum children, Youth Dialogue, a talk show, and Question on Kashmir, a series of interviews on Kashmir issue. I am a Researcher who is helping in identifying, highlighting and resolving the social and political problems of world’s most troubled regions and underprivileged nationalities like Kashmiris and Palestinians. Here are some of my concept papers you can read and share (https://iqraisb.academia.edu/ImranKhushaalRaja). I am a Blogger engaged in portraying the indigenous picture of paradise on earth, Kashmir, through Kashmirica, a platform which I founded in 2013, visit my blog here (http://kashmirica.wordpress.com/). I am a Columnist who is helping the readers of two of Azad Kashmir’s dallies, Kashmir Link and Kashmir Express, in understanding Kashmir Issue. I am a public speaker who is speaking for … guess what, click here and see, have you guessed right? Tell me later. I am a Podcaster who is hosting “SelfTaking”, another show to bore you to death, and “IRecite at SoundSloud, here is a link to that (https://soundcloud.com/imrankhushaalraja). I am a Poet, who is writing some of the life’s extraordinary lessons in his poetry, have a look (https://imrankhushaalraja.wordpress.com/ ). I am a Storywriter, you can find some of my stories on that same blog. I am also going to become an Author of two books in near future, one in English and other in Urdu, “Question on Kashmir” and “Darida Dahn”, you can evaluate the content.

Previously I have worked as an administrator, coordinator, news editor, teacher, consultant, relation officer, instructor and invigilator for organizations as unknown as Awaami Log and as well-known as British Council.

I can help you in writing content for your website/blog or any other about me thing. You can also ask me to help you in making presentations or crafting ideas. I can also help you with teaching, training and research. You can write me an email at imrankhushaalraja@gmail.com or tweet me at @imrankhushaal

Bragging rights
People are where they come from but not all the time.
Education
  • Iqra University
    Mphil International Relations, 2014 - present
  • Preston University Islamabad
    Msc International Relations, 2011 - 2013
Basic Information
Gender
Male
Birthday
December 12, 1988