Profile cover photo
Profile photo
Imran Khushal
111 followers -
Author | Researcher | Blogger | Newswriter | Poet | Unknown
Author | Researcher | Blogger | Newswriter | Poet | Unknown

111 followers
About
Imran's posts

Post has attachment
Ghazal, Hijar main marray ya wassal main jiye


ہجر میں مرے یا وصل میں جیے
ہمی لوگ تھے جو اصل میں جیے

کسی نے کہا تھا مرتے دم تک جیو
تیرے پہلو کی طرح مقتل میں جیے

مشکلیں پڑیں کبھی نہ آساں ہونے کو
ہم زندہ دل ایسے ہر مشکل میں جیے

تمھارے شہر کا ہر وہ شخص میرا ہے
جو میرے بعد میری شکل میں جیے

اور اب زندگی کی تعریف بدل دو
زندہ وہ ہے جو ہر ایک پل میں جیے

Post has attachment

Post has attachment
70 برس گزرنے کے باوجود پاکستان کی سیاسی جماعتیں عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے سے قاصر ہیں۔آئے روز دھرنے ہیں، تحریکیں ہیں، جلسے ہیں۔ غرض سب کچھ ہے لیکن نہیں ہے تو کسی مسلے کا حل نہیں۔

مردہ معاشرے کی بیمار لطف اندوزی

عمران خوشحال راجہ

پچھلے کچھ دنوں سے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر پاکستانی صارفین کے اکاونٹس ایک چائے فروش لڑکے کی تصویروں اور اس پر طرح طرح کے تبصروں سے اٹے ہوئے ہیں۔بلاشبہ انسان فطرت جامد اور ساکت نہیں اوریہاں کوئی پیمانہ نہیں کہ انسان کو کس چیز سے لطف اندوز ہونا چاہیے اور کس سے نہیں۔ کوئی بھی انسان کسی بھی چیز سے محضوظ ہو سکتا ہے۔ یہاں تک کے کچھ لوگ دوسروں کو عملی معنوں میں تکلیف دے کر لطف اندوز ہوتے ہیں اور کچھ لوگ حقیقی زندگی میں یا پھر ٹی وی وغیرہ پرایسےکھیل جس میں کھلاڑی ایک دوسرے کو مارتے پیٹتے ہیں دیکھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ کہہ لیجیےکہ اکثر پاکستانی پچھلے چند دن سے چائے فروش لڑکے کی’’ جاذبیت ‘‘سے محضوظ ہو رہے تھے۔ کوئی قباحت نہیں۔ ایسی کسی بھی چیز سے لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔ پر سوال یہ ہے کہ کیا اجتماعی طور پر لاکھوں لوگوں کو مل کر، سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس سے لے کر نیوز چینلز کی ٹی وی سکرینوں ، اخبارات اور ای پیپرز تک، اسں معیار کی تفریح کو فروغ دینا چاہے یا اس مردہ معاشرے میں لطف اندوزی کے گرتے ہوئے بلکہ انتہائی گرے ہوئے معیار پر نواح کنہ ہونا چاہیے؟

ایسا معاشرہ جہاں ہر طرح کے تشدد ،پولیس گردی اور غنڈا گردی کی ویڈیوز، سیاستدانوں کی گالیوں سے بھری تقریرویوں کے ریکارڈز ، مبصرین کے لائیو شوز میں کیچڑ اچھانےکے پروگرامات ، واہیات اور بکواس ڈرامے اور فلمیں ، سُر اور لے سے خالی موسیقی، معنیت سے بے بہرہ ادب، مقصد سے عاری تعلیم ، اخلاق سے گر ی ہوئی شاعری اور ایسی ہی ہزار ہا چیزوں سے روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں لوگ لطف اندوز ہوتے ہیں وہاں چند ہزار کا کسی چائے فروش کے ’’حسن ‘‘ پر ٹویٹس کرنا یا چند لاکھ کا ایسی خبر کو شئیر کرکے لطف اندوز ہونا کیا بڑی بات ہے۔

ایک ایسا معاشرہ جہاں پی ایچ ڈیز کے پیروں میں پھٹے جوتے ہوں اور جعلی ڈگریوں والوں کے پاوں تلےپارلیمان کی راہداریاں۔ جہاں پڑھے لکھے ان پڑھوں کی کمپنیوں میں نوکریوں کے لیے ترسیں لیکن بے روزگاری پر کوئی بات کرنے کو تیار نہ ہو۔ جہاں آئے روز دہشت گردی سے کئی مرتے ہوں اور مذمت اخبارت کی سرخیوں اور ٹی وی کی سکرینوں سے آگے نہ جاتی ہو۔ جہاں جلسے جلوس تو ناچنے گانے کا موقع فراہم کرتے ہوں لیکن موسیقی کو حرام کہہ کر گانے والوں کو کنجر اور مراثی اور رقص کرنے والوں کو ناچنے والا اور کمتر سمجھا جاتا ہو۔ ایسے معاشرے کو مردہ معاشرہ ہی کہا جا سکتا ہے اور مردے معاشروں کی اخلاقیات ایسی ہی ہوتی ہیں اور ان کےتفریح کےمعیار بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔

پاکستان میں لطف اندوزی کے معیار کی گراوٹ یہاں کی بنیاد پرستی کی فتح ہے۔ یہ بلاشبہ رجعتی قوتوں کی بالا دستی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ آج اس ملک میں سے ہر طرح کی تفریح کا حقیقی معنوں میں خاتمہ ہو چکا ہے۔ گو ماضی بھی بہت تابناک نہیں تھا لیکن آج جو حالت ہے وہ کل نہیں تھی ۔ بے شک تفریح کےبہت زیادہ مواقع نہیں تھے پر ایسی مردہ حالی بھی تو نہیں تھی۔


آج بیس کروڑ سے زیادہ کی آبادی کی واحد تفریح میڈیا اور سوشل میڈیا رہ گیا ہے۔ پارک بند ہیں ۔اور جو کھلے ہیں وہاں ’ٹھلے ‘ہیں۔ جو آپ کوناکردہ جرم پر بھی گرفتار کریں گے۔ ڈرایں گے۔عزت نفس مجروح کریں گے ۔ پیسے لیں گے اور چھوڑ دیں گے۔ یونیورسٹیا ں اگر سرکاری ہیں تو دھویں سے اٹی ہیں، میرٹ کی پامالی کا گڑھ ہیں اور طلبہ کی آپس کی دشمنیوں اور اساتذہ کے بے معنوں تعصب کی آماج گا ہیں ہیں۔ اور اگر پرائیوٹ ہیں تو اتنی تنگ کے سانس لینا بھی محال ہے۔بچے تخلیقی اور سیاسی سرگرمیوں سے دور ہیں اور بچیاں آئے روز ہوس کا نشانہ ۔کہیں کوئی میلہ ٹھیلہ نہیں۔ اور اگر ہو بھی دہشت گردی کا ڈر۔ ماضی میں لکی ایرانی سرکس ہوتے تھے۔ بیرونی ملک سے آرٹسٹ پرفارم کرنے یہاں آتے تھے۔ تھیٹر ہوتے تھے۔ مشاعرے ہوتے۔ غزل کی محفلیں ہوتی تھیں۔ رقص کی محفلیں ہوتی تھیں۔ اور آج ایسا کچھ بھی نہیں۔ جب تفریح اور لطف اندوزی کی کوئی شے باقی نہیں رہی تو ایسی کسی شے پر اعتراض کیسا۔

مردہ معاشروں میں شائد تفریح اور لطف اندوزی کے معیار ایسے ہی ہوتے ہیں۔ بقولِ جون ایلیا ’’یہ بونوں کا معاشرہ ہے ۔ ‘‘ اور اگر یہ بونوں کا معاشرہ ہے تو اس کی تفریح کا معیار اتنا ہی بلند ہو سکتا ہے جتنا پچھلے چند دن میں آپ نے ملاحظہ فرمایا۔ اگر یہ بونوں کا معاشرہ ہے تو اس کے شاعر اور ادیب، اس کےمبصر اور تجزیہ نگار، اس کے سیاست دان اور ڈرامہ نویس یعنی اس کا ہر فرد ایک بونا ہے ۔ اس کے قلم ، کتاب، یا فلم سے نکلنے والی تفریح کا معیار بھی بونا ہے۔ اس میں لطف اندوزی کا ہر ذریعہ بونوں کی لطف اندوزی کے ذریعوں سے ملتا ہے۔ کسی دوست نہیں کہا کہ وہ رعایاجس کو اس کے بادشاہ نے صبح شام جوتے مروا کر بغاوت پر مجبور کرنا چاہا تھا وہ آج کے پاکستانی عوام کے جیسی ہوئی ہوگی۔ اور یہ بھی کہا کہ اگر ان کو جوتے بھی مارےجائیں (جو روائتی لوڈشیڈنگ ، مہنگائی، بے روزگاری، علاج کا فقدان اور ایسے ہی ہزار طرح کے جوتوں سے مختلف ہوں) ۔یعنی حقیقی معنوں میں جوتے ۔ تو عین ممکن ہے کہ یہ اس میں سے بھی تفریح کاکوئی پہلو تلاش لائیں اور اگلے ہی لمحے انٹرنیٹ اور ٹی وی سکرینوں پر یہ خبر چل رہی ہو کہ ’’لاہور، کراچی، اسلام آباد سمیت پورے پاکستان میں شہریوں نے ’’جوت لگاو‘‘ مہم کو خوب انجوئے کیا اور خوشی کے ان لمحات کو سیلفیوں اور گرینڈفیوں کے ذریعے پوری دنیا سے شئیر بھی کیا‘‘۔
Read, Comment, Share

To read this blog on SAMAA TV's website visit the following link.

http://www.samaa.tv/urdu/blogs/2016/11/578567/

Post has attachment
Live with grace or in hope to live with grace. -Imran Khushal
#quotesforlife
#quotestoliveby
#QuoteOfTheDay
#TheDailyIK
#RetweeetPlease
Photo

Post has attachment
Live with grace or in hope to live with grace. -Imran Khushal
#quotesforlife
#quotestoliveby
#QuoteOfTheDay
#TheDailyIK
#RetweeetPlease
Photo

Post has attachment
پاکستان میں ای کامرس کا مستقبل
عمران خوشحال راجہ منگل 25 اکتوبر 2016

20 اکتوبر کو پوٹھوہار آرگنائزیشن فارڈیولیپمنٹ ایڈوکیسی (پوڈا) کی جانب سے خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے لوک ورثہ اسلام آباد میں منعقدہ آٹھویں سالانہ کانفرنس میں خواتین اور ترقی کے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ کانفرنس میں حکومت کی طرف سے 50 لاکھ کسانوں کواسمارٹ فونز دینے کے اعلان کے حوالے سے بھی بات کی گئی۔ اس موقع پر دیہی خواتین کو اسمارٹ فونز کے ذریعے آئن لائن کاروبار یا ای کامرس کے عمل میں لائے جانے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا گیا۔
یاد رہے حکومتی عدم توجہ کے باوجود پاکستان میں ای کامرس تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ گو اس وقت پاکستان میں ای کامرس کا کُل حجم تقریباً 60 ملین ڈالرز ہے لیکن مزید دو، تین سالوں میں اس میں زبردست اضافہ متوقع ہے۔ اِس شعبے سے وابستہ تجربہ کار افراد کی جانب سے بار بار یہ کہا جارہا ہے کہ پاکستانی ای کامرس کا حجم سن 2020ء تک ایک بلین ڈالرز سے بھی تجاوز کرجائے گا۔
اگر اِس بات کو ٹھیک مان لیا جائے تو مطلب یہ ہوا کہ پاکستان میں سیاسی اور سماجی موسم کی گرمی سردی، تحریکوں، جلسوں اور دھرنوں سے راویتی کاروبار کو تو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے لیکن ای کامرس کے متاثر ہونے کے امکانات کم ہیں، جو کہ ای کامرس سے جڑے لوگوں کے لئے تسلی بخش بات ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نہ صرف عوام الناس بلکہ خواص اور تعلیم یافتہ افراد بھی آئن لائن کاروبار کے حوالے سے مخمصے کا شکار نظر آتے ہیں۔
اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ آئن لائن کاروبار سے منسلک کمپیناں یا برینڈز غیر معیاری مصنوعات فروخت کرکے صارفین کو دھوکہ دہی سے منافع کماتی ہیں لیکن یہ محض ایک خیال ہی ہے۔ ہاں یہ درست ہے کہ کچھ کمپنیاں اوربرینڈز ایسے ہیں جو اپنی ویب سائیٹ پر بہت نفیس اور معیاری مصنوعات کی تشہیر کرکے نسبتاً غیر معیاری اورمعمولی نوعیت کی مصنوعات فروخت کرتے ہیں اور صارف جب ایک بار ایسے کسی پراڈکٹ کے لئے قیمت ادا کردیتا ہے تو اس کو تبدیل یا واپس نہیں کرسکتا۔
لیکن اس طرح کی غیر قانونی اور غیراخلاقی حرکت کو تمام کمپنیوں سے جوڑنا درست نہیں سمجھا جاسکتا۔ یہ معاملہ خاص طور پر ایسی کمپنیوں سے جوڑنا سرار ناانصافی ہوگی جو کسٹمر فرسٹ اور کسٹمر کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور کسی بھی ایسی صورت میں جب کسٹمر کو آئن لائن دیکھے اور اصل میں خریدے گئے پراڈکٹ میں فرق کی شکایت ہو تو اس کو باقائدہ سنتی اور دور کرتی ہیں۔
پاکستان میں اگرچہ آئن لائن کاروبار کرنے والی کمپنیوں کی تعداد بہت زیادہ نہیں لیکن اس کے باوجود ایسی کمپنیاں موجود ہیں جو کسٹمر فرسٹ اور کسٹمر سیٹیسفیکشن کے فلسفے پر عمل پیرا ہیں۔ اب اس بات کا جتنا انحصار حکومت پر ہے کہ کوئی بھی فراڈ کمپنی صارفین کو دھوکہ دہی سے نقصان نہ پہنچائے اتنا ہی صارفین کو بھی چاہیئے کہ وہ کسی بھی آن لائن کمپنی سے کسی بھی طرح کی کاروباری سرگرمی سے پہلے اس بات کا اطمینان کرلیں کہ کہیں انہیں دھوکہ تو نہیں دیا جارہا۔
پاکستان میں ای کامرس کے حجم کو بڑھانے کے لئے صارفین کا آئن لائن بیچنے والی کمپنیوں اور ان کی مصنوعات پر اعتماد کا ہونا اشد ضروری ہے۔ اس ضمن میں جہاں حکومت کو ایسی تمام کمپنیوں کو باقاعدہ رجسڑ اور مانیٹر کرنے کی ضرورت ہے وہیں آئن لائن کاروبار کرنے والے خواتین اور حضرات کو مل کر ایک ای کامرس سوسائٹی کی بنیاد رکھنے کی ضرورت بھی ہے۔ ایسی سوسائٹی نہ صرف ای کامرس سے جڑے حضرات کو قریب لاسکتی ہے بلکہ عوام میں ای کامرس کے حوالے سے آگاہی اور کاروبار کے مواقعوں کو بھی عام کرسکتی ہے۔
دیہی خواتین و حضرات کو اسمارٹ فونز دینے کے ساتھ ساتھ ای کامرس کی بنیادی تربیت دینا بھی اشد ضروری ہے، جو کہ حکومت اپنے طور پر یا کسی مقامی تنظیمی ادارے کے تعاون سے مل کر دے سکتی ہے۔ ایسی تربیت سے جہاں دیہاتوں اور قصبوں کے کاروباری خواتین و حضرات کا آئن لائن کمیونٹی سے تعارف ہوگا، وہاں شہروں کے کاروباری خواتین و حضرات سے بھی جان پہچان ہوگی، جو کہ نتیجتاً سب کے لئے مفید ثابت ہوگی۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگرجامع تعارف کےساتھ blog@express.com.pkپر ای میل کریں۔
عمران خوشحال راجہ
عمران خوشحال راجہ
بلاگر ایم فل سکالر، کشمیریکا کے بانی، محقق اور بلاگر ہیں۔ وہ ’’آن کشمیر اینڈ ٹیررزم‘‘ اور ’’دریدہ دہن‘‘ کے مصنف ہیں۔ عالمی تعلقات، دہشت گردی اور سماجی و سیاسی تبدیلیاں ان کی دلچسبی کے مضامین ہیں۔

Post has attachment
پاکستان سے راتوں رات منشیات کا خاتمہ ممکن نہیں۔ لیکن اس کا نکتہ آغاز اس بات کو تسلیم کرنے میں ہے کہ ہمارے ہاں ایک کروڑ کے لگ بھگ آبادی نشے کے موذی مرض میں مبتلا ہیں اور ہمارے پاس صرف چند ہزار کا علاج کرنے کی سکت ہے۔ منشیات سے سالانہ کھربوں کی مالیت کا کالا دھن ملکی معیشت کو تباہ اور برباد کر رہا ہے اور ہم تاحال بے بس ہیں۔ افغانستان سے آج بھی بہت بڑی تعداد میں منشیات پاکستان کے راستے دنیا کے دیگر ممالک میں اسمگل کی جا رہی ہیں، لیکن ہماری کوششیں ناکافی ہیں۔ ملک میں نشے کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے اور آگاہی کی مہمات نہ ہونے کہ برابر ہیں۔ شاید اس اعتراف کے بعد سنجیدگی سے آگے بڑھ کر ہی منشیات سے پاک پاکستان کا حصول ممکن ہو

Post has attachment
تقسیم کی سیاست کرنے والو بتاؤ
تقسیم سے قحط آنہیں جائے گا کیا
نفرت کی تجارت کرنے والو بتاؤ
تعصب ہمیں کھا نہیں جائے گا کیا

Post has attachment
تقسیم کی سیاست کرنے والوبتاو
تقسیم سے قحط آنہیں جائے گا کیا
نفرت کی تجارت کرنے والو بتاو
تعصب ہمیں کھا نہیں جائے گا کیا
(عمران خوشحال راجہ)
Wait while more posts are being loaded